| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
کے لئے قرض تھے جب وہ معیّن دن آیا تو قرض دار نو کھرے روپے لایا اور کہا کہ ان دس کھوٹے روپوں کے بدلے یہ نو کھرے روپے لے لو، تو یہ صورت جائز نہیں؛ کیونکہ اس میں سود ہے،تو اگر وہ حیلہ کرنا چاہے تو نو کھوٹے روپوں کے بدلے نو کھرے روپے لے لے اور ایک روپیہ معاف کردے، اس صورت میں قرض دار کو اگر یہ اندیشہ ہو کہ قرض خواہ ایک روپیہ معاف نہیں کریگا تو قرض خواہ کو نوکھرے روپے ادا کرے اور ایک پیسہ یا کوئی اور چھوٹی سی چیز جس کی کوئی قیمت ہواس باقی روپے کے عوض دیدے تو اب یہ صورت بھی جائز ہوجائے گی اور وہ اندیشہ بھی جاتا رہے گا۔
( " الفتاوٰی الخانیۃ"، کتاب البیع، باب في بیع مال الربا، فصل فیما یکون فراراً عن الربا، ج۲، ص۴۰۸)
اس عبارت کے فوائد تجھ پر پوشیدہ نہیں رہیں گے ؛کیونکہ آئندہ تقریر میں -ان شاء اﷲ- ہم ان کا تذکرہ کریں گے، اور ہمارے لئے تو یہی دلیل کافی ہے کہ علماء کِرام -رحمہم اﷲ - نے وجہِ اول میں اسے بیع عینہ سے تشبیہ دی اور فرمایا کہ وہ بھی اسی وجہ سے مکروہ ہے ، نیز بیع عینہ صرف مکروہ تنزیہی ہے ،لہٰذا اسی طرح یہ صورت بھی مکروہ تنزیہی ہوگی۔اور امام محمد کا یہ ارشاد کہ" وہ ان کے نزدیک پہاڑ سے زیادہ گراں ہے" تجھے پریشانی میں نہ ڈالے؛
( فتح القدیر، کتاب الصرف، ج۶، ص۲۷۱)