سے بہتر ہے، اور امام ابو یوسف -رحمہ اﷲ تعالیٰ- سے روایت ہے کہ انہوں نے بیع عینہ کو جائز فرمایا ہے اور فرمایا کہ اس پر ثواب ملے گا ثواب کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ اس میں حرام یعنی سود سے بھاگنا ہے۔
( " الفتاوٰی الخانیۃ"، کتاب البیع، باب في بیع مال الربا، فصل فیما یکون فراراً عن الربا، ج۲، ص۴۰۸)
پانچواں حیلہ یہ فرمایا کہ ایک شخص کے پاس دس کھرے چاندی کے روپے
(Ten Unmixed Silver Coins)
ہیں اور وہ یہ چاہتا ہے کہ ان کو بارہ کھوٹے روپوں کے عوض بیچے تو یہ جائز نہیں؛ کیونکہ یہ سود ہے، پھر اگر وہ حیلہ کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ خریدار سے بارہ کھوٹے روپے بطور قرض لے لے پھر دس کھرے روپے اسے ادا کردے پھر وہ خریدار اسے باقی دو روپے معاف کردے تو یہ حیلہ جائز ہے۔
( " الفتاوٰی الخانیۃ"، کتاب البیع، باب في بیع مال الربا، فصل فیما یکون فرارا عن الربا، ج۲، ص۴۰۸)
چھٹا حیلہ یہ بیان فرمایا اگرکسی شخص پر دس کھوٹے روپے ایک معیّن دن تک