Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
135 - 199
    چوتھا حیلہ یہ بیان فرمایا کہ قرض دینے والا، لینے والے کے ہاتھ کوئی چیز ایک معیّنہ مدت تک کے لئے تیرہ روپے میں فروخت کرکے وہ چیز اس کے قبضہ میں دیدے اور قرض لینے والا وہ چیز کسی اجنبی کو بیچ دے، پھر قرض لینے والا اس اجنبی سے بیع فسخ
 (Annul)
کردے- خواہ وہ چیز اجنبی کے قبضہ میں دی ہو یا نہیں- اس کے بعد قرض لینے والا دینے والے کو وہی چیز دس روپے میں بیچ کر دس روپے اس سے وصول کرے، اس طرح قرض دینے والے کو تیرہ اور لینے والے کو دس روپے حاصل ہوجائیں گے اور متاع اصل مالک (یعنی قرض دینے والے)کے پاس پہنچ جائے گا، اگرچہ قرض دینے والے نے اپنی بیچی ہوئی چیز کی قیمت وصول ہونے سے پہلے ہی اس سے کم قیمت میں خرید لی مگر یہاں یہ جائز ہے ؛کیونکہ بیچ میں دوسری بیع آگئی جو قرض لینے والے اور اجنبی کے درمیان ہوئی تھی۔
 ( " الفتاوٰی الخانیۃ"، کتاب البیع، باب في بیع مال الربا، فصل فیما یکون فراراً عن الربا، ج۲، ص۴۰۸)
    اور اس میں ایک حیلہ یہ بیان فرمایا کہ قرض دینے والا لینے والے کے ہاتھ کوئی سامان ادھار بیچے اور وہ چیز اس کے قبضہ میں دیدے، پھر قرض لینے والا اس سامان کو کسی دوسرے کے ہاتھ قیمت خرید سے کم قیمت کے عوض بیچ دے، پھر وہ دوسرا شخص اس قرض دینے والے کو وہ سامان اسی قیمت میں بیچے جس میں اس نے خریدی تاکہ وہ متاع اس کو مل جائے اور اس سے قیمت لے کر قرض لینے والے کو دیدے تو
Flag Counter