Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
134 - 199
والے کے قرض لینے والے پر ایک سو بیس روپے لازم ہوجائیں، نیز احتیاط اس صورت میں زیادہ ہے کہ معاملہ طے پاجانے کے بعد قرض لینے والا دینے والے سے کہے کہ "ہمارے درمیان جو گفتگو ہوئی اور جو شرائط طے پائیں میں نے انہیں ترک کیا" پھر سامان کی خریدو فروخت کریں۔
 ( " الفتاوٰی الخانیۃ"، کتاب البیع، باب في بیع مال الربا، فصل فیما یکون فرارا عن الربا، ج۲، ص۴۰۸)
    تیسرا حیلہ یہ ارشاد فرمایا کہ اگر وہ سامان بھی قرض دینے والے ہی کا ہو اور وہ دس روپے دے کر ایک معیّنہ مدت پر اس سے تیرہ روپے وصول کرنا چاہے تو قرض دینے والے کو چاہیے کہ وہ کوئی چیز قرض لینے والے کو تیرہ روپے میں بیچ دے اور وہ چیز اس کے قبضہ میں دے دے، پھر قرض لینے والا وہ سامان کسی اجنبی کو دس روپے میں بیچ کر وہ چیز اس اجنبی کے قبضہ میں دیدے اور وہ اجنبی قرض دینے والے کو وہی چیز دس روپے میں بیچ دے اور اس سے دس روپے لے کر قرض لینے والے کو وہ دس روپے ادا کردے، اس طرح اجنبی پر قرض لینے والے کے جو دس روپے ادھار تھے وہ بھی ادا ہو جائیں گے اور وہ چیز بھی دس روپے میں قرض دینے والے کے پاس پہنچ جائے گی اور اس کے تیرہ روپے قرض لینے والے پر ایک معیّنہ مدت تک کے لئے قرض ہوجائیں گے
 ("الفتاوٰی الخانیۃ"،کتاب البیع،باب في بیع مال الربا،فصل فیمایکون فراراًعن الربا، ج۲، ص۴۰۸)
Flag Counter