Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
133 - 199
ہوں اور وہ اس قرض کو ایک معینہ مدت تک مؤخر کرکے دس کی جگہ تیرہ روپے وصول کرنا چاہے تو علماء فرماتے ہیں کہ اسے چاہے کہ وہ مقروض
 (Debtor)
سے کوئی چیز اُن قرضے والے دس روپوں کے عوض خرید کر اس چیزپر قبضہ کرے، پھر یہی چیز اس مقروض کو ایک سال کی مدت کے لئے تیرہ روپے میں بیچ دے، اس طرح یہ حرام سے بچ جائے گا اور اسے تیرہ روپے بھی حاصل ہوجائیں گے، نیز اس طرح کا عمل نبی کریم -صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم -سے بھی مروی ہے کہ انہوں نے ایسا کرنے کا حکم دیا
 (" الفتاوٰی الخانیۃ"، کتاب البیع، باب في بیع مال الربا، فصل فیما یکون فراراً عن الربا، ج۲، ص۴۰۸)
    یہی حیلہ" بحر الرائق" میں بھی "خلاصہ" اور" نوازلِ" امام فقیہ ابو اللیث -رحمۃ اﷲ علیہ - کے حوالے سے موجود ہے ۔

    دوسرا حیلہ یہ بیان فرمایا کہ ایک شخص نے کسی دوسرے سے کچھ روپے قرض مانگے اس طور پرکہ دینے والے کوسو کے بجائے ایک سو بیس روپے ملیں تو اسکا حیلہ یہ ہوگا کہ قرض لینے والا دینے والے کے سامنے کوئی سامان رکھ کر کہے کہ میں نے تجھے یہ سامان سو روپے کے عوض بیچا قرض دینے والا وہ سامان خرید کر قرض لینے والے کو اس کی قیمت ادا کردے اور سامان پر قبضہ کرے، پھر قرض لینے والا کہے یہ سامان مجھے ایک سو بیس روپے میں بیچ دو، تو قرض دینے والا وہ سامان اسے فروخت کردے تاکہ اسے سو روپے مل جائیں، اور سامان بھی قرض لینے والے کو واپس مل جائے اور قرض دینے
Flag Counter