اورآپ جانتے ہیں کہ دوسری وجہ کا حاصل صرف اس قدر ہے کہ خرابی وفساد کے ڈر سے اس چیز کو چھوڑے جس میں خرابی نہ ہو تو یہ مقامِ ورع (تقوٰی کا مقام )ہے اور ورع چھوڑنے سے کراہت تحریمی لازم نہیں آتی اورخود فرمایا کہ وہ اس طرف لے جائے گی کہ اس کے عادی ہوجائیں گے اورناجائز جگہ بھی اس پر عمل کرنے لگیں گے۔ اس طرح انہوں نے خود تصریح فرمادی کہ جائز جگہ میں اس پر عمل کرنا جائز ہے اور کراہت فقط اس خوف کی وجہ سے ہے کہ لوگ ناجائز جگہ اس پر عمل کرنا نہ شروع کردیں۔
جہاں تک پہلی و جہ کا تعلق ہے تو وہ تو بالکل واضح ہے کہ سود کو ساقط کرنے کاحیلہ ،سود سے بھاگنے کا ذریعہ ہے اور وہ منع نہیں، بلکہ ممنوع تو سود میں پڑنا ہے، اور بے شک ہمارے علماء کِرام- رضی اﷲ عنہم- نے اس کے متعدد حیلے بیان فرمائے ہیں کہ زیادہ چیز لیں مگر سود نہ ہو۔ نیز امام فقیہ النفس قاضی خان نے تو اپنے فتاویٰ میں اس کے لئے ایک مستقل فصل وضع فرمائی اور فرمایا کہ یہ فصل سود سے بچنے کے حیلوں کے بیان میں ہے۔
اس میں پہلا حیلہ یہ بیان فرمایا کہ اگر کسی کے کسی شخص پر دس روپے قرض