Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
131 - 199
صورت میں یہ بیع عینہ )
(Sale on Credit)
کی طرح ہوجائیگی ؛کیونکہ حیلہ کرکے زیادہ چیز وصول کی گئی ،یا پھر کراہت اس وجہ سے ہے کہ لوگ اس کے عادی ہوجائیں گے، تو پھر ناجائز جگہ بھی اس پر عمل کرنے لگیں گے "۔
 ("العنایۃ" ھامش" فتح القدیر"، کتاب الصرف، ج۶، ص۲۷۱،۲۷۲)
    "فتح القدیر"میں "ایضاح "سے دوسری وجہ (یعنی لوگ اس کے عادی ہوجائیں گے اورناجائز جگہ بھی اس پر عمل کرنے لگیں گے )نقل فرمائی پھر فرمایا:۔

    " اسی طرح "محیط" میں ذکر کیا گیا ہے"۔ پھر فرمایا کہ:۔

     " بعض علماء مکروہ کہتے ہیں اس لیے کہ انہوں نے سود سے بچنے کا حیلہ کیا " اور بالآخر و جہ اول میں اپنی پوری بات منحصر کردی جو ابھی گزر چکی ہے ۔
 (" فتح القدیر"، کتاب الصرف،ج۶، ص۲۷۱)
     اورصاحب" عنایہ" نے دونوں وجہیں ذکر کر کے اسی وجہ اول میں منحصر کر دیا ، جہاں یہ فرمایا کہ کراہت صرف اس و جہ سے ہے کہ انھوں نے اسے سود کی زیادتی کو ساقط کرنے کا ذریعہ بنایا ۔
 ("العنایۃ " ھامش" فتح القدیر"، کتاب الصرف، ج۶، ص۲۷۲)
    اوراسی پر "کفایہ "میں انحصار کیا کہ وہ صرف اس لیے مکروہ ہے کہ وہ سود کی زیادتی کو ساقط کرنے کا حیلہ ہے تاکہ حیلہ کے ذریعے زیادتی حاصل کرے چنانچہ بیع عینہ
Flag Counter