| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
میں کہتا ہوں کہ متون مثل" تنویر" وغیرہ کے اس قول کہ "غلام کی امامت مکروہ ہے"کا تعلق کراہت کی دوسری قسم یعنی کراہتِ تنزیہی سے ہے ؛کیونکہ" در مختار" میں اس کے تحت فرمایا: یہ کراہت تنزیہی ہے۔
("الدر المختار"في شرح" تنویر الأبصار"، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، ج۲، ص۳۵۵)جبکہ علامہ شامی نے "رد المحتار" میں فرمایا کہ اس کے مکروہ تنزیہی ہونے کی وجہ یہ ہے کہ امام محمد نے" مبسوط "میں فرمایا: "ا ن کے غیر کی امامت مجھے زیادہ پسند ہے"، یہ بات" بحر الرائق" میں" مجتبیٰ "اور" معراج "کے حوالے سے نقل ہے۔
(" رد المحتار"، کتاب الصلاۃ، باب الإمامۃ، مطلب في تکرار الجماعۃ في المسجد، ج۲، ص۳۵۵،) یہ سب جان لینے کے بعد لازم ہے کہ دلیل تلاش کی جائے تاکہ واضح ہو کہ وہ دونوں کرا ہتوں میں سے کونسی کراہت ہے، جیساکہ دریائے علم نے"بحر الرائق" میں افادہ فرمایا کہ:۔
"ہم نے علماء کرام رحمہم اللہ کو دیکھا وہ اس کراہت پر دو وجہ سے استدلال کرتے ہیں، اور اُن میں سے کوئی بھی کراہت تحریم کا فائدہ نہیں دیتی ان کی نہایت صرف کراہت تنزیہہ ہے"۔" عنایہ "میں فرمایا کہ :۔
" اس کی کراہت یا تو اس و جہ سے ہے کہ یہ سود کو دفع کرنے کا حیلہ ہے، اس