پر، اور کبھی مکروہ تنزیہی
پر، پھر مصنف -علیہ الرحمۃ-نے "بحر الرائق" کے حوالے سے نقل کیا کہ اس باب میں مکروہ دو قسم کا ہوتا ہے:۔
ایک مکروہ تحریمی: عموماً کرا ہت مطلقہ سے یہی مراد ہوتا ہے۔ د وسرامکروہ تنزیہی: اس کے لئے بھی اکثر کراہت کو مطلق ہی ذکر کیا جاتا ہے، جیسا کہ" مُنیہ" کی شرح میں اس کی تصریح موجود ہے، لہٰذا جب فقہاء کسی شئے کو مکروہ فرمائیں تو اس کی دلیل پر نظر کرنا ضروری ہے، اگر وہ دلیل نہی
(Evidence of Prohibition)
ہو تو کراہت تحریمہ کا حکم دیں گے، مگر یہ کہ اس کراہت تحریم کو کوئی اوردلیل کراہتِ تنزیہی کی طرف پھیرنے والی نہ ہو ، اوراگر وہ دلیل نہی ،ظنی نہ ہو بلکہ ترک غیر جازم (ممانعت)کا فائدہ دینے والی ہو تو وہ کراہت تنزیہی ہے۔
("رد المحتار"، کتاب الطھارۃ، مطلب: في تعریف المکروہ وأنہ قد یطلق...إلخ، ج۱، ص۲۸۰،۲۸۱، ملخصاً)