Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
129 - 199
    اورعلامہ شامی -علیہ الرحمۃ- نے مکروہاتِ وضوء میں فرمایا:

     "مطلق کراہت سے ہمیشہ تحریمی ہی مراد نہیں ہوتی"۔
 ("رد المحتار"، کتاب الطھارۃ، مطلب في الإسراف في الوضوء، ج۱، ص۲۸۲)
    نیز اس سے پہلے جہاں مصنف نے یہ فرمایا کہ مکروہ محبوب کی ضد ہے اور مکروہ کا لفظ کبھی حرام پر بولا جاتا ہے، کبھی مکروہ تحریمی
(Abominable)
پر، اور کبھی مکروہ تنزیہی
(Unpleasant)
پر، پھر مصنف -علیہ الرحمۃ-نے "بحر الرائق" کے حوالے سے نقل کیا کہ اس باب میں مکروہ دو قسم کا ہوتا ہے:۔

ایک مکروہ تحریمی: عموماً کرا ہت مطلقہ سے یہی مراد ہوتا ہے۔ د وسرامکروہ تنزیہی: اس کے لئے بھی اکثر کراہت کو مطلق ہی ذکر کیا جاتا ہے، جیسا کہ" مُنیہ" کی شرح میں اس کی تصریح موجود ہے، لہٰذا جب فقہاء کسی شئے کو مکروہ فرمائیں تو اس کی دلیل پر نظر کرنا ضروری ہے، اگر وہ دلیل نہی
 (Evidence of Prohibition)
ظنی
(Suspected)
ہو تو کراہت تحریمہ کا حکم دیں گے، مگر یہ کہ اس کراہت تحریم کو کوئی اوردلیل کراہتِ تنزیہی کی طرف پھیرنے والی نہ ہو ، اوراگر وہ دلیل نہی ،ظنی نہ ہو بلکہ ترک غیر جازم (ممانعت)کا فائدہ دینے والی ہو تو وہ کراہت تنزیہی ہے۔
 ("رد المحتار"، کتاب الطھارۃ، مطلب: في تعریف المکروہ وأنہ قد یطلق...إلخ، ج۱، ص۲۸۰،۲۸۱، ملخصاً)
Flag Counter