| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
ہوں، نیز بعض اوقات مطلق کراہت کو ذکر فرما کر اس سے صرف کرا ہتِ تنزیہی مراد لیتے ہیں اور یہ بات فقہاء کرام کے نفیس کلمات کی خدمت میں زندگی بسر کرنے والے پر ہرگز پوشیدہ نہیں۔نیز علماء کرام نے متعدد مقامات پرکراہت کے اس معنی کی تصریح فرمائی ہے، " رد المحتار" میں باب الشہید سے کچھ پہلے فرمایا کہ امام طحطاوی کے علاوہ دیگر علماء نے قبروں پر پاؤں رکھنے اور بیٹھنے کے بارے میں جس کراہت کا ذکر فرمایا ہے اس سے مراد قضاء حاجت کے علاوہ دیگر صورتوں میں کراہتِ تنزیہی(۱) مراد ہے اور زیادہ سے زیادہ یہاں اس کراہتِ مطلقہ سے مراد وہ معنی ہوسکتے ہیں جو کراہتِ تنزیہہ اور تحریمہ دونوں کو شامل ہو، اور اس قسم کی باتیں علماء کے کلام میں بکثرت پائی جاتی ہیں، نیز فقہا ء کا مکروہاتِ نماز فرمانا بھی اس باب سے تعلق رکھتا ہے۔
("رد المحتار"، کتاب الصلاۃ، قبیل باب الشھید، مطلب في إھداء ثواب القراء ۃإ لخ، ج۳، ص۱۸۴)بلکہ "در مختار" کی فصل استنجاء میں مصنف کے اس قو ل کے نیچے : "عورت کے لئے بچہ کو پیشاب کے لئے قبلہ کی طرف بٹھانا مکروہ ہے"یہ فرمایا کہ یہ کراہت تنزیہہ اور تحریمہ دونوں کو شامل ہے۔
("الدر المختار"،کتاب الطھارۃ،قولہ:وکذا یکرہ،ج۱،ص۶۱)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ (1)۔۔۔یہ وہ حکم جس کی طرف علامہ شامی ہیاں مائل ہوئےاور حق یہ ہے کہ قبر پر پاؤں رکھنایا بیٹھنا مکروہ تحریمی ہے ،جیسا کہ میں نے اپنے رسالہ "الامر باحترام المقابر " میں اس کی تحقیق کی اور بیشک محقق شامی خوداپنی کتاب کی فصل استنجاء میں اس کے معترف ہوئے کہ فرمایا: علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ قبروں میں جو نیاراستہ نکلاہواس میں چلناحرام ہے"