Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
127 - 199
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

=چاندی کو دوسرے کھوٹے روپے کے پیتل، اور پہلے کے پیتل کو دوسرے روپے کی چاندی سے بیچنا قرار دیا جائے گا۔ ہاں البتہ ! ادھار بیچنا جائز نہیں؛ کیونکہ دونوں میں وزن پایا جارہا ہے جو کہ سود (Usury)کی دو علتوں (Causes)سے ایک علت (Cause)ہے اور دونوں ثمن(Money (بھی ہیں، لہٰذا اُدھار حرام ہے۔جہاں تک ایک ہی قسم کے روپوں کو باہم کم یا زیادہ قیمت پر بیچنے کا تعلق ہے تو اس میں اگرایک طرف کی چاندی کھوٹ پر غالب ہے تو یہ ناجائز ہے؛ کیونکہ مغلوب کا اعتبار نہیں۔ تو گویا وہ خالص چاندی ہی ہے لہٰذا برابری ہی کے ساتھ بیچنا جائز ہوگا، اور اگر پیتل زیادہ ہے یا چاندی اور پتیل دونوں برابر ہیں تو کمی بیشی جائز ہوگی اور اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ ہر روپے کی چاندی کا مقابلہ دوسرے روپے کے پیتل سے کریں گے اور اس میں لین دین کا دست بدست ہونا ضروری ہے؛ کیونکہ دونوں طرف چاندی بھی ہے فقط پیتل نہیں کہ تعیین کافی ہو، اسے"فتاویٰ ذخیرہ " کی کتاب البیوع کی چھٹی فصل میں نقل کیا اور کہا کہ اسی بنا پر مشائخ نے فرمایا کہ "ہمارے زمانے میں جو کھوٹے روپے عدلی کے نام سے رائج ہیں ان میں سے ایک روپے کو دو روپوں سے دست بدست بیچنا جائز ہے" ۔ 

    میں کہتاہوں کہ جب کمی بیشی جائز ہے تو جیسے ایک روپے کو دو روپے کے عوض بیچنا جائز ہے ویسے ہی سو یا ہزار کے عوض بیچنا بھی جائز ہوگا ، اب فرض کیجئے۔۔۔۔۔۔! جس روپے میں دوتہائی پیتل ہے تول میں اس روپے کا پونا ہے جس میں آدھی چاندی ہے تو اس کی دو تہائی اور اس کا آدھا تول میں برابر ہوں گے، اور ان کا ایک روپیہ ان میں کے دس ہزار کو دست بدست بیچا اوریہ بات ضروری ہے کہ جنس (Species)کو خلافِ جنس کے مقابل ٹھہرایا جائے تو چاندی کے دس ہزار روپے پیتل کے ایک روپے کے عوض بکے ، تجھے اس سے زیادہ مالیت میں کونسی زیادتی درکار ہے؟ اور یہ محرّرِ مذہب ہیں کہ صاف فرمارہے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں،تو واجب ہوا کہ اس میں اگر کوئی کراہت ہو تو وہ کراہتِ تنزیہی ہی ہو، اور خود صاحبِ مذہب کی تصریح کے بعد کسی کو کلام کی کیا گنجائش ہے! لہٰذا اسی پر جم جاؤ اور بے شک اﷲ ہی کی طرف سے توفیق ہے۔