| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
نہیں ؛کیونکہ روپے میں پائی جانے والی وزن کی زیادتی کو پیسوں کے مقابل کردینے سے اس بیع کو درست قرار دینا ممکن ہے"۔
("الفتاوی الھندیۃ"، کتاب البیوع، الباب السادس في المتفرقات، ج۳، ص۲۵۱)الحاصل امام اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ -سے یہ روایت مشہور و معروف ہے اور یہ تو سب کو معلوم ہے کہ عمل اور فتویٰ ہمیشہ امام اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ -کے قول پر ہوتا ہے، مگر ضرورت کے تحت جیسے مسلمانوں کا عمل امام کے قول کے خلاف ہوجائے تو صاحبین وغیرہما- رضی اللہ تعالی عنہم -کے قول پر فتویٰ دے دیا جاتا ہے، اور اس بات کی تحقیق ہم نے " العطا یا النبویہ في الفتاویٰ الرضویہ" کی کتاب النکاح میں اتنی تفصیل سے بیان کردی ہے جس پر زیادتی کی گنجائش نہیں۔ چہارم : سب سے روشن و حق بات یہ ہے کہ یہ کراہت (۱) صرف کرا ہتِ تنزیہی ہے۔ کراہت کے مطلق ذکر سے دھوکہ نہ کھایئے گا؛ کیونکہ فقہا ء اکثر کراہت کو مطلق ذکر کرتے ہیں اور اس سے وہ معنی مراد لیتے ہیں جو کرا ہتِ تنزیہی اور تحریمی دونوں کو شامل
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ۱۔۔۔۔۔۔ اقو ل : محمد اور تو نے کیاجاناکون محمد.....! ارے وہ محمدجو علماء کے سردار اور مذہب ِمستقیم کی تحریر و تلخیص فرمانے والے ہیں، وہ "جامع کبیر" میں (جو کہ کتب ظاھر الروایۃ میں سے ہے ) فرماتے ہیں: جب کھوٹے روپے مختلف قسم کے ہوں کسی میں دو تہائی چاندی ہو، کسی میں دو تہائی پیتل کسی میں نصف چاندی، ان میں سے ایک قسم کے روپے کو دوسری قسم کے روپے کے عوض کم یا زیادہ قیمت پر بیچنے میں کوئی حرج نہیں جبکہ لین دین ہاتھوں ہاتھ ہو؛ کیونکہ اس صورت میں ایک کھوٹے روپے کی=