Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
125 - 199
مروی ہے، حالانکہ امام اعظم- رضی اﷲ تعالیٰ عنہ- نے جن کا قول مذہبِ حنفی میں سب سے مقدّم ہوتا ہے- تصریح فرمائی ہے کہ اس میں بالکل کراہت نہیں، محقق علی الاطلاق نے"فتح القدیر" میں اس مسئلہ کو ذکر کرکے فرمایا: امام محمد- رحمہ اللہ تعالی- سے عرض کی گئی آپ اِس کو اپنے نزدیک کیسا پاتے ہیں؟ فرمایا:" پہاڑ کی طرح گراں" حالانکہ امام اعظم -رضی اﷲ تعالیٰ عنہ -سے اس کا مکروہ ہونا ثابت نہیں ہے، بلکہ" اِیضاح "میں یہ تصریح موجود ہے کہ امام اعظم-رضی اﷲ تعالیٰ عنہ - کے نزدیک اس صورت میں کوئی حرج نہیں۔
 ("فتح القدیر"، کتاب الصرف، ج۶، ص۲۷۱)
    عنقریب اسی کے مثل "بحر "سے بحوالہ" قنیہ" ایک مسئلہ پیش کیا جائے گا جس میں امام بقالی- رحمہ اللہ -نے فرمایا کہ" اس صورت میں کراہت نہ ہونا امام اعظم اور امام ابو یوسف رضی اﷲ تعالیٰ عنہما -دونوں کا مذہب ہے"، نیز" فتاویٰ عالمگیری" میں باب الکفالۃ سے کچھ پہلے امام سرخسی-رحمہ اللہ تعالی - کی" محیط "کے حوالے سے امام محمد-رحمہ اللہ تعالی - کا قول نقل ہے کہ" اگر ایک روپے کو ایک روپے کے عوض بیچا اور ان میں سے ایک روپے کا وزن دوسرے سے زیادہ ہو، نیز کم وزن والے روپے کے ساتھ کچھ پیسے ملادیئے تو یہ بیع جائز ہے مگر میں اسے مکروہ سمجھتا ہوں؛ کیونکہ اس طرح سے لوگ اس کے عادی
 (Habitual)
ہوجائیں گے اور ناجائز کاموں میں بھی اس پر عمل شروع کردیں گے، جبکہ امام اعظم- رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج
Flag Counter