Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
124 - 199
سود کی تعریف
    "فتح القدیر" میں علامہ محقق علی الاطلاق -رحمۃ اﷲ علیہ- نے فرمایا کہ" سود اس زیادتی
(Excess)
کو کہتے ہیں جس کا حقدار عقدِ معاوضہ میں عاقدَین
 (Seller and Purchaser)
میں سے کسی ایک کو قرار دیا جائے اور اس زیادتی کے مقابلے میں کوئی عوض اس عقد میں شرط نہ کیا گیا ہو"۔
 (" فتح القدیر"، کتاب البیوع، باب الربا، ج۶، ص۱۵۱)
    اور آپ کو معلوم ہوگا کہ عوض سے خالی ہونا اس وقت ثابت ہوگا جب کسی شئے کا مقابلہ اسی کی جنس سے کیا جائے۔ اور بے شک رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:۔(( جب دو چیزیں مختلف جنس کی ہوں تو جیسے چاہو بیچو))۔
 (" نصب الرایۃ لأحادیث الھدایۃ"، کتاب البیوع، ج۴، ص۷)
    یہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف سے اجازت ہے، وہی صاحبِ شرع ہیں، انہیں کی طرف رجوع اور انہیں کے ہاں پناہ ہے، لہٰذا جو نبی کریم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی جائز کی ہوئی چیز کو منع کرے تو اس کا منع کرنا اسی کی طرف ردّ کیا جائے گا، اور اس کی بات ہرگز نہیں سنی جائیگی۔

سوم : جس بیع میں کم چاندی یا سونے کے ساتھ ملائی ہوئی چیز کی قیمت ،زیادہ چاندی یا سونے کی مقدار کو نہ پہنچے ،اس کا مکروہ ہونا صرف امام محمد-رحمہ اللہ تعالی -سے
Flag Counter