کریں تو دس کا نوٹ دس روپے کے عوض بیچنے کی صورت میں بھی مالیت میں زیادتی ہے، اور اگر اصطلاح کو دیکھیں تو اصطلاح کا لحاظ بائع و مشتری پر ضروری نہیں، بلکہ یہ لوگ اصطلاح باطل بھی کرسکتے ہیں، جیسا کہ ہم آپ کو" ہدایہ" اور" فتح القدیر" کے اقوال سنا چکے۔ لہٰذا جب لوگوں نے نوٹ کو دس روپے کا قرار دے دیا حالانکہ یہ اصل میں شاید ایک ہی پیسے کا ہو۔ تو بائع و مشتری کو دس کا نوٹ دس سے کم یا زیادہ قیمت میں بیچنے سے کون منع کرسکتا ہے، چنانچہ اب اس مسئلہ کو کوئی آنچ نہیں جس میں ہم بحث کر رہے ہیں ۔
دوم : ان کا کلام اس صورت میں ہے جب ایک جنس کے عوض اسی جنس کا لین دین ہو ؛کیونکہ اسی میں زیادتی ظاہر ہوتی ہے ۔کیا آپ نے"ہدایہ" کا یہ قول نہیں دیکھا کہ "جب چاندی کے عوض چاندی یا سونے کے عوض سونا بیچا، اور ایک طرف کمی ہے"۔