Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
123 - 199
کریں تو دس کا نوٹ دس روپے کے عوض بیچنے کی صورت میں بھی مالیت میں زیادتی ہے، اور اگر اصطلاح کو دیکھیں تو اصطلاح کا لحاظ بائع و مشتری پر ضروری نہیں، بلکہ یہ لوگ اصطلاح باطل بھی کرسکتے ہیں، جیسا کہ ہم آپ کو" ہدایہ" اور" فتح القدیر" کے اقوال سنا چکے۔ لہٰذا جب لوگوں نے نوٹ کو دس روپے کا قرار دے دیا حالانکہ یہ اصل میں شاید ایک ہی پیسے کا ہو۔ تو بائع و مشتری کو دس کا نوٹ دس سے کم یا زیادہ قیمت میں بیچنے سے کون منع کرسکتا ہے، چنانچہ اب اس مسئلہ کو کوئی آنچ نہیں جس میں ہم بحث کر رہے ہیں ۔

دوم : ان کا کلام اس صورت میں ہے جب ایک جنس کے عوض اسی جنس کا لین دین ہو ؛کیونکہ اسی میں زیادتی ظاہر ہوتی ہے ۔کیا آپ نے"ہدایہ" کا یہ قول نہیں دیکھا کہ "جب چاندی کے عوض چاندی یا سونے کے عوض سونا بیچا، اور ایک طرف کمی ہے"۔
 ( "الھدایۃ" في شرح "بدایۃ المبتدي"، کتاب الصرف، ج۳، ص۸۳)
اوریوں نہیں فرمایا کہ سونے کو چاندی سے بیچا اور نرخ معروف کے اعتبار سے ایک طرف مالیت کم ہے توسونا اپنے برابر کے سونے کے برابر جب کیا جائے گا زیادتی ظاہر ہوجائے گی اور اس وقت عقل یہ تمیز کرے گی کہ وہ چیز جوکم چیز کے ساتھ ملائی گئی ہے اس زیادتی کی مقدار کو پہنچتی ہے یا نہیں ،بخلاف اُس کے کہ نوٹ کوچاندی کے روپوں کے عوض بیچا ؛کیونکہ وہ دو مختلف جنسیں ہیں تو پھر زیادتی کیسے ظاہر ہوگئی اور یہ فرع اس اصل کے مطابق کیسے ہوگی۔۔۔۔۔۔؟!
Flag Counter