Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
121 - 199
    "ہدایہ" میں ہے کہ" اگر کوئی شخص چاندی کو چاندی یا سونے کو سونے کے عوض بیچے اور ایک طرف کمی ہو اور اس کمی کو پورا کرنے کے لئے اس میں کسی ایسی چیز کا اضافہ کردے جس سے کمی پوری ہوجائے تو بیع بلا کراہت جائز ہے، اور اگر کمی پوری نہ ہو تو یہ بیع ہو تو گئی مگر مکروہ ہے، اور اگر اس اضافہ شدہ چیز کی کوئی قیمت نہ ہو، جیسے کہ مٹی کی کوئی قیمت نہیں ہوتی تو اس صورت میں بیع جائز ہی نہ ہوگی؛ کیونکہ اس صورت میں سود موجود ہے، اس لیے کہ جتنی زیادتی ایک طرف رہی، دوسری طرف اس کے مقابلے میں کچھ نہیں، لہٰذا اس صورت میں سود پایا گیا"۔
 ("الھدایۃ "في شرح "بدایۃ المبتدي"، کتاب الصرف، ج۳، ص۸۳)
     اس کلام کو" فتح القدیر" اور دیگر شروحات اور" بحر "و "رد المحتار" وغیرہا میں اسی طرح برقرار رکھا گیا، اور یہ بات تو واضح ہے کہ جب لفظِ"کراہت "مطلق بولا جائے تو اس سے کراہتِ تحریم مراد ہوتی ہے، بلکہ فاضل عبد الحلیم نے حاشیہ" درر" میں اس مسئلہ کو نقل کرکے اس کی تفصیل کو"فتح القدیر" کے حوالے کیا، اور کہا: جب آپ کو یہ مسئلہ معلوم ہوچکا تو سنو کہ سلطنتِ عثمانیہ میں جو یہ رائج ہے کہ ایک قرش (ترکی کی کرنسی کا ایک سکہ) کو ۸۰ عثمانی روپوں کے بدلے بیچا جاتا ہے؛ جائز نہیں ؛کیونکہ قرش مالیت میں زیادہ ہوتا ہے۔ ہاں !اگر روپوں کے ساتھ ایک پیسہ کا بھی اضافہ کردیا جائے تو یہ خرید و فروخت جائز ہے مگر مکروہ ہے، لہٰذا محتاط لوگوں پر واجب ہے کہ وہ لین دین کے وقت
Flag Counter