Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
120 - 199
اشرفی کے عوض بیچنا بھی درست ہے ۔
 ("الدر المختار" في شرح" تنویر الأبصار"، کتاب البیوع، باب الصرف، ج۷، ص۵۶۳،۵۶۴،۔" الھدایۃ" في شرح "بدایۃ المبتدي"، کتاب الصرف، ج۳، ص۸۳)
"رد المحتار " میں اس کی شرح میں فرمایا کہ" چاندی کے دس روپے تو دس روپوں کے عوض ہوجائیں گے اور گیارواں روپیہ ایک اشرفی کے عوض ہوجائے گا"۔
 ("رد المحتار"، کتاب البیوع، باب الصرف، مطلب في بیع المفضّض...إلخ، ج۷، ص۵۶۴)
     لہٰذا جب سونے کی ایک اشرفی کو جو عموماًچاندی کے پندرہ روپے کے برابر ہوتی ہے چاندی کے ایک روپے کے بدلے بیچنا درست ہے اور اس میں بالکل سود نہیں، تو دس کے نوٹ کو بارہ روپوں کے عوض بیچنے میں سود کیسے ہوگا؟ اگر ا س میں بھی سود مانو تویہ نرا بہتان ہے ۔
ایک اعتراض کی تقریر
    اگر تم یہ اعتراض کرو کہ جو مسائل آپ نے بیان کئے ان صورتوں میں بیع اگرچہ درست ہے مگر مکروہ ہے اور مکروہ کام کاکرناممنوع ہوتا ہے، لہٰذا اگرچہ مکروہ کام کرنے سے وہ کام ہوتو جاتا ہے مگر حلال نہیں ہوتا۔ اسی طرح ان صورتوں میں بیع اگرچہ ہوجاتی ہے مگر حلال نہیں ہوتی۔
Flag Counter