ہیں، اور کوئی شخص ان کی ثمنیت باطل نہیں کرسکتا، نیز ہر عقلمند یہ جانتا ہے کہ سونے کی ایک اشرفی
کے برابر ہوتی ہے، اور کوئی اشرفی ہرگز چاندی کے ایک روپے کے برابر نہیں ہوتی، اس کے باوجود ہمارے ائمہ نے اس بات کی تصریح فرمائی ہے کہ ایک اشرفی کو چاندی کے ایک روپے کے عوض بیچنا درست ہے، اور اس میں اصلاً سود نہیں ،اور اس کی علت
فقط یہ ہے کہ جب جنس مختلف ہوجائے تو کمی بیشی جائز ہوجاتی ہے، اور نوٹ اور چاندی کے روپوں کی جنس کا مختلف ہونا سوائے پاگل کے ہر ایک پر ظاہر ہے "در مختار" اور" ہدایہ" کی طرح دیگر کتب میں فرمایا کہ"سونے کی ایک اشرفی اور چاندی کے دو روپوں کوچاندی کے ایک روپے او رسونے کی دو اشرفیوں کے بدلے بیچنا درست ہے"۔ اس صورت میں ہر جنس کو جنسِ مخالف کے مقابل کردیا جائے گا، اسی طرح چاندی کے گیارہ روپوں کو چاندی کے دس روپوں اورسونے کی ایک
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱۔۔۔۔۔۔مولانا لکھنوی صاحب پر ساتواں ردّ۔