Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
118 - 199
خود ہی جواب ظاہر کردیاکہ دوسروں کی اصطلاح عاقدَین کو مجبور نہیں کرسکتی، چنانچہ تمہارا بیان کردہ فرق بیکار اورضائع ہوگیا اور حق واضح ۔
 		دوسرا جواب(۱)
    اگر ہم یہ تسلیم کرلیں کہ عاقدَین نوٹ کی ثمنیت کو باطل نہیں کرسکتے تو یہ بتاؤ کہ تم نے یہ کہاں سے کہا کہ اصطلاحی ثمن کو مالیت کی مقررہ مقدار سے پھیرنا جائز نہیں؟ کیا آپ نہیں جانتے کہ ایک روپے کے پیسے عُرف کے معیّن کرنے سے ہمیشہ متعین رہتے ہیں ،اور یہ بات ہر سمجھ دار بچہ بھی جانتا ہے کہ ایک روپیہ سولہ آنے کا ہوتا ہے، پندرہ یا سترہ آنے کا نہیں ہوتا، پھر یہ عُرفی تعیّن اور پیسوں کا ثمنِ اصطلاحی ہونا بائع ومشتری پر کمی بیشی حرام نہیں کرتا۔

     نیز" تنویر الابصار" اور اس کی شرح" درمختار" میں ہے کہ اگر کسی نے صرّاف
 (Money Changer)
کو چاندی کا ایک روپیہ دیا اور کہا: "اس کے بدلے مجھے آٹھ آنے کے پیسے دیدو اور ایک سکّہ دےدوجو اٹھنی سے رَتی بھر کم ہو "تو یہ بیع جائز ہے۔ روپے کی اتنی چاندی جو اس چھوٹے سکّہ کےبرابر ہو وہ تو اس سکّہ کے عوض ہوجائے گی اور باقی چاندی کے عوض پیسے ہو جائیں گے۔
 ("الدر المختار" في شرح" تنویر الأبصار"، کتاب البیوع، باب الصرف، ج۷، ص۵۷۳،۵۷۴)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

۱۔۔۔۔۔۔مولانا لکھنوی صاحب پر چھٹاردّ۔
Flag Counter