Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
117 - 199
( اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَ تِجٰرَۃً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡکُمْ  )
    ترجمہ کنزالایمان: "مگر یہ کہ سود ا تمہاری آپس کی رضا مندی کا ہو"( پ ۵ ،النسآء ۲۹)

اور بیشک" فتح القدیر" کے حوالے سے گزر چکا ہے کہ" اگر کوئی شخص کاغذ کے ایک ٹکڑے کو ہزار روپے میں بیچے تو جائز ہے، اور اس میں بالکل کراہت نہیں"۔
 	 ("فتح القدیر"، کتاب الکفالۃ، قبیل فصل في الضمان، ج۶، ص۳۲۴)
    نیز ہر شخص جانتا ہے کہ کاغذ کے ایک ٹکڑے کی قیمت ایک ہزار روپے ہرگز نہیں ہوسکتی ،اور نہ ہی سو روپے ہو سکتی ہے بلکہ ایک روپیہ بھی نہیں ہوسکتی تو اس نوٹ کی اتنی بڑی قیمت ہونے کا سبب یہی ہے کہ قیمت اور ثمن جدا جدا چیزیں ہیں، اور بائع ومشتری پر قیمت (بازار کے ریٹ)کی پابندی ثمن(یعنی جو کچھ ان کے درمیان طے ہوا)میں ضروری نہیں،بلکہ ان دونوں کو اختیار ہے کہ چاہیں تو بازاری قیمت سے کئی گنا زیادہ قیمت پر رضا مند ہوجائیں اور چاہیں تو قیمت کے سوویں حصے پر راضی ہوجائیں۔
	لکھنوی صاحب کی طرف سے ایک شبہ
    اگر تم یہ کہو کہ یہ تو متاع کا حکم ہے جبکہ نوٹ ثمنِ اصطلاحی ہے ۔
	اس کا پہلا جواب(۱)
    تو میں یہ کہوں گا اگر نوٹ ثمنِ اصطلاحی ہے تو کیا ہوا ؟تم نے اصطلاحی کہہ کر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

۱۔۔۔۔۔۔مولانا لکھنوی صاحب پر پانچواں ردّ۔
Flag Counter