تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی اجازت کے بعد منع کرنے والا کون ہے ؟
یہ توایسی روشن دلیلیں ہیں کہ بچے پر بھی مخفی نہیں ،اب میں تمہارے سامنے ایک ایسی چیز بیان کروں گا جس سے تمہاری عقل میں کچھ شبہ پیدا ہوگا اور پھر میں حقیقت بیان کرکے اس شبہ کا ازالہ کردوں گا۔
میں کہتا ہوں: ذرا یہ بتایئے کہ کیا آپ اور ہر عقل وفہم رکھنے والا نہیں جانتا کہ وہ چیز جس کی عام قیمت سب کے نزدیک دس روپے ہے ہر شخص کو اختیار ہے کہ خریدار کی مرضی سے اسے سو روپے میں بیچ دے یا ایک پیسہ کے بدلے میں دیدے ! شریعتِ مطہرہ نے اس سے ہر گز منع نہیں فرمایا،اﷲتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(1).....مولانا لکھنوی صاحب پر تیسرا رد (2).....مولانا لکھنوی صاحب پر چوتھارد