Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
116 - 199
کرچکے ہیں، لہٰذا نوٹ میں زیادتی کا حلال ہونا واضح ہوگیا، مزید تفصیل کا انتظار کرو۔
جواز کی تیسری دلیل(۱)
سرکار صلی اللہ تعالی علی وسلم ارشاد فرماتے ہیں:

((جب جنس مختلف ہو تو جیسے چاہو بیچو)) اس حدیث کو امام مسلم -رحمہ اللہ تعالی- نے حضرت عبادہ بن صامت -رضی اﷲ تعالیٰ عنہ- سے روایت کیا۔
 ("صحیح مسلم"، کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، باب الصرف وبیع الذھب...إلخ، رقم الحدیث: ۱۵۸۷، ص۸۵۶)
تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی اجازت کے بعد منع کرنے والا کون ہے ؟
جواز کی چوتھی دلیل(۲)
    یہ توایسی روشن دلیلیں ہیں کہ بچے پر بھی مخفی نہیں ،اب میں تمہارے سامنے ایک ایسی چیز بیان کروں گا جس سے تمہاری عقل میں کچھ شبہ پیدا ہوگا اور پھر میں حقیقت بیان کرکے اس شبہ کا ازالہ کردوں گا۔

    میں کہتا ہوں: ذرا یہ بتایئے کہ کیا آپ اور ہر عقل وفہم رکھنے والا نہیں جانتا کہ وہ چیز جس کی عام قیمت سب کے نزدیک دس روپے ہے ہر شخص کو اختیار ہے کہ خریدار کی مرضی سے اسے سو روپے میں بیچ دے یا ایک پیسہ کے بدلے میں دیدے ! شریعتِ مطہرہ نے اس سے ہر گز منع نہیں فرمایا،اﷲتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 (1).....مولانا لکھنوی صاحب پر تیسرا رد 	(2).....مولانا لکھنوی صاحب پر  چوتھارد
Flag Counter