Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
115 - 199
جائے تو زیادتی حلال اور ادھار حرام ہے۔ یہ ایسا قاعدہ ہے جو کہیں نہیں ٹوٹتا اور سود کے تمام مسائل کادارو مدار اسی قاعدے پر ہے، نیز یہ بات نہایت واضح ہے کہ نوٹ اورچاندی کا روپیہ نہ تو قدر میں برابر ہے، اور نہ ہی جنس میں،جنس میں تو اس لئے نہیں کہ نوٹ کاغذ کا ہے اورروپیہ"چاندی" کا جبکہ قدر میں اس لئے نہیں کہ نوٹ کا لین دین نہ تو ناپ کر کیا جاتا ہے، اور نہ ہی تول کر، بلکہ اس کا لین دین گِن کرہی کیا جاتا ہے۔

لہٰذا نوٹ کو زائد قیمت پر اور ادھار دونوں طرح سے بیچنا جائز ہیں، اس لیے کہ نوٹ سرے سے مال ربایعنی ایسا مال ہی نہیں جس میں سود جاری ہو سکے ۔ ہم عنقریب اس کی مزید تحقیق
(Research)
بیان کریں گے، ان شاء اﷲ عزوجل
جواز کی دوسری دلیل(۱)
    " رد المحتار" وغیرہ میں فرمایا: جب جب زیادتی حرام ہو گی تو ادھار بھی حرام ہو گا اور اس کا عکس نہ ہوگا، یعنی یہ نہیں ہوگاکہ جب زیادتی حلال ہو توادھار بھی حلال ہو، اور جب جب ادھار جائز ہو تو زیادتی بھی حلال ہوگی، اور اس کا عکس نہ ہوگا یعنی یہ نہیں ہوگاکہ جب ادھار ناجائز ہوتو زیادتی بھی ناجائز ہو۔
 ("رد المحتار"، کتاب البیوع، باب الربا، مطلب في الإبراء عن الربا، قولہ: (متفاضلاً) ج۷، ص۴۲۴)
    اور ہم نویں سوال میں نوٹ میں ادھار کے جائز ہونے پر دلیلِ قطعی قائم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(1)مولانا لکھنوی صاحب پر دوسرا رد
Flag Counter