فتویٰ دیا اور اکابر علماء ہند میں سے متعدد علماء نے بھی یہی فتویٰ دیا، مثلاً فاضل کامل مولوی ارشاد حسین رامپوری- رحمۃ اﷲتعالی علیہ- وغیرہ اِس فتویٰ میں مجھ سے صرف ایک شخص (مولوی عبد الحی لکھنوی) نے اختلاف کیا جنہیں اکابر علماء میں شمار کیا جاتا ہے مجھے ان کے اختلاف کی اطلاع ان کی وفات کے بعد اس وقت ہوئی جب کچھ مختصر اوراق اُن کے فتاویٰ کے نام سے چھپے، اگر ان کی حیات میں ان سے اس مسئلہ پر میرا تبادلہ خیال ہوتا تو امید تھی کہ وہ اپنے فتویٰ سے رجوع کرلیتے؛کیونکہ ان کی عادت تھی کہ اگر انہیں سمجھایا جاتا اور بات ان کی سمجھ میں آجاتی تو وہ اپنے موقف سے رجوع کرلیا کرتے تھے، لہٰذا ہم اس مسئلہ کو قدرے تفصیل ا ور وضاحت سے بیان کرتے ہیں تاکہ حق کو قبول کئے بغیر کوئی چارہ نہ رہے۔