Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
114 - 199
فتویٰ دیا اور اکابر علماء ہند میں سے متعدد علماء نے بھی یہی فتویٰ دیا، مثلاً فاضل کامل مولوی ارشاد حسین رامپوری- رحمۃ اﷲتعالی علیہ- وغیرہ اِس فتویٰ میں مجھ سے صرف ایک شخص (مولوی عبد الحی لکھنوی) نے اختلاف کیا جنہیں اکابر علماء میں شمار کیا جاتا ہے مجھے ان کے اختلاف کی اطلاع ان کی وفات کے بعد اس وقت ہوئی جب کچھ مختصر اوراق اُن کے فتاویٰ کے نام سے چھپے، اگر ان کی حیات میں ان سے اس مسئلہ پر میرا تبادلہ خیال ہوتا تو امید تھی کہ وہ اپنے فتویٰ سے رجوع کرلیتے؛کیونکہ ان کی عادت تھی کہ اگر انہیں سمجھایا جاتا اور بات ان کی سمجھ میں آجاتی تو وہ اپنے موقف سے رجوع کرلیا کرتے تھے، لہٰذا ہم اس مسئلہ کو قدرے تفصیل ا ور وضاحت سے بیان کرتے ہیں تاکہ حق کو قبول کئے بغیر کوئی چارہ نہ رہے۔
جواز (Correctnes)کی پہلی دلیل (۱)
     لہٰذا پہلے میں یہ کہوں گا کہ ہمارے جمہور علماء کرام- رحمہم اﷲ تعالیٰ- نے تصریح فرمائی ہے کہ سود
(Usury)
کے حرام ہونے کی علت اتحادِ جنس کے وقت ناپ تول میں کمی بیشی ہے، لہٰذا اگر قدر
(Weight and Measurement)
وجنس
(Species)
دونوں پائی جائیں تو زیادتی اور ادھار دونوں حرام ہیں، اور اگر قدرو جنس دونوں نہ پائی جائیں تو زیادتی و ادھار دونوں حلال ہیں، اور اگر دونوں میں سے ایک پائی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

(1)مولانا لکھنوی صاحب پر پہلا رد
Flag Counter