Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
113 - 199
وہ متعین نہ ہوئے، اسی لئے بیع باطل ہوئی، اور کبھی کبھار اس مسئلہ میں امام محمد- رحمہ اللہ تعالی -کے قول کو بھی ترجیح دی جاتی ہے اسے خوب سمجھ لو(۱)۔ واﷲ تعالیٰ اعلم

سوال ۱۱ : کیا نوٹ کو اس کی مالیت سے زائد قیمت کے بدلے بیچنا جائز ہے؟ مثلاً بارہ کا نوٹ دس یا بیس کے نوٹ کے عوض بیچنا ۔

                             ا لجو ا ب 

  جی ہاں! نوٹ پر جتنی رقم لکھی ہو اس سے کم یا زائد جس پر بیچنے والا اور خریدار دونوں راضی ہوجائیں اس قیمت میں بیچنا جائز ہے؛ کیونکہ پچھلے کلام میں گزر چکا ہے کہ نوٹ کی قیمت کی مقدار فقط لوگوں کی اصطلاح سے مقرر ہوئی ہے اور بائع ومشتری پر کسی غیر کو ولایت حاصل نہیں، جیسا کہ "ہدایہ" اور" فتح القدیر" کے حوالے سے گزرا، لہٰذا ان دونوں کو اختیار ہے کہ نوٹ کو مقررہ قیمت سے کم یا زیادہ جتنی قیمت میں چاہیں بیچیں، عقل مند کے لئے تو اتنا ہی جواب کافی ہے، میں نے کئی مرتبہ اسی موقف کے مطابق
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

۱۔۔۔۔۔۔ یہ بات اس جواب کی طرف اشارہ ہے کہ عقد ،صحیح کرنے کی ضرورت ہی اس پر کافی قرینہ ہے اور اس کا نفسِ عقد سے مفہوم ہونا ضروری نہیں، جیسے اگر کوئی چاندی کے ایک روپے اور سونے کی دو اشرفیوں کو چاندی کے دو روپے اور سونے کی ایک اشرفی کے عوض بیچے تو اس صورت کو جائز قرار دیا جائے گا اور جواز کا طریقہ یہ ہوگا کہ جنس (Species)کو غیر جنس کی طرف پھیردیں گے حالانکہ نفسِ عقد میں جنس کے عوض جنس ہونے کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ نیز سود (Usury) کا شبہ گویا سود ہی ہوتا ہے لہٰذا عقد کو صحیح قرار دینے کا باعث یہی حاجت ہے اور ایسی مثالیں بکثرت موجود ہیں۔
Flag Counter