Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
112 - 199
    لہٰذا اگر یہ پیسوں کی ثمنیت باطل کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں، اور جب ثمنیت باطل ہوگی تو پیسے متعین ہوجائیں گے۔ محقق علی الاطلاق نے" فتح القدیر" میں امام ابو یوسف کی اس دلیل کو اسی طریقے سے مقرر رکھا، لہٰذا امام محمد کیسے فرماسکتے ہیں کہ عاقدَین کا پیسوں میں بیعِ سلم کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے ان کے ثمن ہونے کی اصطلاح کو باطل مان لیا ہے؛ کیونکہ ان کے نزدیک فقط عاقدین ثمنیت کی اصطلاح کو باطل نہیں کرسکتے جبکہ باقی لوگ پیسوں کو ثمن مانتے ہوں، مگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ امام محمد کے اس قول کے ذریعے انکا پہلی علّت سے رجوع کرنا ثابت ہوتا ہے، حالانکہ وہ علّت امام محمد سے منقول نہیں، بلکہ مشائخ کی پیدا کردہ ہے تو اب اس فرق سے یہ بات ظاہر ہوئی کہ امام محمد کے نزدیک وجہ وہ علّت نہیں ہے، بلکہ امام محمد بھی اس بات کے قائل ہیں کہ عاقدَین کو اپنے حق میں ثمنیت باطل کرنے
(Nullify)
کا اختیار ہے، مگر یہ ثمنیت اس وقت باطل ہوگی جب عاقدَین سے ثمنیت باطل کرنے کا ارادہ ثابت ہوجائے، اور بیعِ سَلم میں یہ ارادہ ضرور ثابت ہوجاتا ہے؛ کیونکہ اس بیع میں مُسلَم فیہ یعنی جو چیز بعد میں وعدہ پر لینا قرار پاتی ہے وہ کبھی ثمن
(Money)
نہیں ہوسکتی، لہٰذا اُن کا پیسوں میں بیعِ سَلم کرناہی اِن پیسوں کی ثمنیت باطل کرنے کی دلیل ہے جبکہ بیع میں یہ ارادہ ثابت نہیں ہوگا؛ کیونکہ اس میں مبیع کا غیرِ ثمن
(Currency Less)
ہونا ضروری نہیں، لہٰذا عاقدَین سے اصطلاحِ ثمنیت کو باطل کرنا ثابت نہ ہوا، تو پیسوں کا ثمن ہونا باقی رہا، لہٰذا
Flag Counter