لہٰذا اگر یہ پیسوں کی ثمنیت باطل کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں، اور جب ثمنیت باطل ہوگی تو پیسے متعین ہوجائیں گے۔ محقق علی الاطلاق نے" فتح القدیر" میں امام ابو یوسف کی اس دلیل کو اسی طریقے سے مقرر رکھا، لہٰذا امام محمد کیسے فرماسکتے ہیں کہ عاقدَین کا پیسوں میں بیعِ سلم کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے ان کے ثمن ہونے کی اصطلاح کو باطل مان لیا ہے؛ کیونکہ ان کے نزدیک فقط عاقدین ثمنیت کی اصطلاح کو باطل نہیں کرسکتے جبکہ باقی لوگ پیسوں کو ثمن مانتے ہوں، مگر یہ کہا جاسکتا ہے کہ امام محمد کے اس قول کے ذریعے انکا پہلی علّت سے رجوع کرنا ثابت ہوتا ہے، حالانکہ وہ علّت امام محمد سے منقول نہیں، بلکہ مشائخ کی پیدا کردہ ہے تو اب اس فرق سے یہ بات ظاہر ہوئی کہ امام محمد کے نزدیک وجہ وہ علّت نہیں ہے، بلکہ امام محمد بھی اس بات کے قائل ہیں کہ عاقدَین کو اپنے حق میں ثمنیت باطل کرنے