Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
111 - 199
طریقے سے ان کا لین دین ہوتا ہے یعنی گن کر، بخلاف بیعِ مطلق کے؛ کیونکہ بیعِ مطلق تو ثمن پر بھی منعقد ہو سکتی ہے، لہذا بیعِ مطلق میں پیسوں کو ثمنیت سے خارج کرنے کا کوئی مُوجِب
(Motive/Cause)
نہیں، لہٰذا کمی بیشی جائز نہ ہوئی اور ایک پیسے کی دوپیسوں کے عوض بیع منع ٹھہری۔
 (" فتح القدیر"، کتاب البیوع، باب السلم، ج۶، ص۲۰۸،۲۰۹)
    مگر میں کہتا ہوں کہ اس فرق پر ایک اعتراض
 (Objection)
وارد ہوسکتا ہے ؛کیونکہ امام محمد اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ فقط عاقدَین کے ارادہ کرتے ہی پیسوں کی ثمنیت باطل ہوجائے ،حالانکہ باقی سب لوگ ان کے ثمن ہونے پر متفق ہیں۔ "ہدایہ" میں فرمایا کہ" امام اعظم اور امام ابو یوسف کے نزدیک ایک پیسے کو دو معیّن پیسوں کے عوض بیچنا جائز ہے، اور امام محمد فرماتے ہیں کہ ناجائز ہے؛ کیونکہ پیسوں کا ثمن ہونا تمام لوگوں کی اصطلاح سے ثابت ہوتاہے، لہٰذا فقط ان دو کی اصطلاح سے باطل نہیں ہوگا، نیز جب پیسوں کی ثمنیت باقی رہے تو وہ متعین نہیں ہونگے،تو یہ گویا ایک پیسے کو دو غیر معیّن پیسوں کے بدلے بیچنے اور ایک معین روپے کو دو معین روپوں کے بدلے بیچنے کی طرح ہوگیا اور شیخین کی دلیل یہ ہے کہ عاقدَین کے لئے ثمنیت انہی کی اصطلاح سے ثابت ہوتی ہے اورباطل بھی ان ہی کی اصطلاح سے ہو جائیگی "۔
 ("الھدایۃ" ، کتاب البیوع، باب الربا، ج۳، ص۶۳)
Flag Counter