| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
کہ" پیسوں میں بیعِ سَلم جائز ہے"امام اعظم اور امام ابو یوسف - رحمہما اﷲ- کے نزدیک ہے جبکہ امام محمد- رحمہ اللہ تعالی- کے نزدیک ناجائز ہے؛ کیونکہ پیسے ثمن ہیں، شیخین کی دلیل یہ ہے کہ پیسوں کا ثمن ہونا بائع و مشتری کی اصطلاح کی وجہ سے ہے، لہٰذا پیسوں میں بیعِ سَلم کرنے کی صورت میں ان کی اپنی اصطلاح سے پیسوں کی ثمنیت باطل ہوجائے گی۔
("الھدایۃ" في شرح" بدایۃ المبتدي"، کتاب البیوع، باب السلم، ج۳، ص۷۱)" فتح القدیر" میں ہے کہ پیسوں میں بیعِ سَلم جائز ہے، جبکہ گنتی کرکے ہو، امام محمد نے بھی اس قول کو "جامع" میں ذکر فرمایا، مگر کسی اختلاف کو ذکر نہیں فرمایا، اور یہی قول امام محمد سے روایتِ مشہورہ کے طور پر مروی ہے، جبکہ بعض علماء کرام نے فرمایا کہ یہ قول تو شیخین کا ہے ،اور امام محمد کے نزدیک جائز نہیں، ان کی دلیل یہ ہے کہ ان کے نزدیک دو پیسوں کو ایک پیسے کے عوض بیچنا منع ہے؛ کیونکہ پیسے ثمن ہیں اور ثمن میں بیعِ سَلم جائز نہیں، مگر امام محمد سے مروی روایتِ مشہورہ میں ان کے نزدیک بھی پیسوں میں بیعِ سَلم جائز ہے اور امام محمد کے نزدیک بیعِ مطلق
(Absolute sale)
اور بیعِ سَلم میں یہ فرق ہے کہ بیعِ سَلم میں ضروری ہے کہ جو چیز بعد میں دینا قرار پائے وہ ثمن نہ ہو، لہٰذا جب بائع و مشتری پیسوں میں بیعِ سَلم کو منعقد کریں گے تو گویا انہوں نے ضمناً ان کی ثمنیت کی اصطلاح کو باطل کردیا اور پیسوں کی بیعِ سَلم اسی طریقے سے جائز ہے جس