علامہ شامی فرماتے ہیں کہ: "مصنف نے جو یہ فلس (پیسہ ) کہا بہتر یہ ہے کہ فلوس (پیسے) کہتے ؛ کیونکہ فلس واحد کا صیغہ ہے، اسمِ جنس نہیں ہے، اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ اس مسئلہ میں امام محمد-رحمہ اللہ تعالی- کا اختلاف ہے؛ کیونکہ وہ دو پیسوں کو ایک پیسے کے بدلے میں بیچنے سے منع فرماتے ہیں، مگر ان سے جوروایتِ مشہورہ مروی ہے اس کے مطابق یہ بھی امام اعظم- رضی اﷲ تعالیٰ عنہ -اور امام ابو یوسف -رحمۃ اﷲ تعالی علیہ- کے ساتھ اس مسئلہ کے جائز ہونے پر متفق ہیں، اور انکا جو قول صاحبین -رحمھما اللہ- کے مخالف ہے" نہرالفائق" وغیرہ میں منقول ہے۔
("رد المحتار" في شرح" الدر المختار"، کتاب البیوع، باب السلم، ج۷، ص۴۸۰)
شاید" نہر الفائق "نے یہ بات قاری الہدایہ کے فتویٰ کی تأویل کے لئے ظاہر کی تاکہ یہ بات ان کے فتویٰ کے لئے سند ہوجائے، اگرچہ نوادرمیں ہی ، چنانچہ اس قول کی بنا پر علامہ قاری الہدایہ کے فتویٰ پر اعتماد نہیں کیا جائے گا ،نیز "ہدایہ" میں ہے کہ اسی طرح پیسوں میں بھی بیعِ سَلم جائز ہے، جبکہ گنتی کرکے دیئے جائیں اور یہ قول ہے