Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
109 - 199
مالک -رحمۃ اﷲ علیہ -کا احناف سے اختلاف ہے ،"یا وہ گِن کر بیچی جانے والی چیز ہو، توایسی ہو کہ اس کے افراد باہم قریب قریب ہوں ،یعنی حجم
(Size)
میں زیادہ فرق نہ ہو، جیسے اخروٹ یا انڈے اور پیسے"..... الخ۔
 ("الدر المختار" في شرح" تنویر الأبصار"، کتاب البیوع، باب السلم، ج۷، ص۴۷۹،۴۸۰)
    علامہ شامی فرماتے ہیں کہ: "مصنف نے جو یہ فلس (پیسہ ) کہا بہتر یہ ہے کہ فلوس (پیسے) کہتے ؛ کیونکہ فلس واحد کا صیغہ ہے، اسمِ جنس نہیں ہے، اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ اس مسئلہ میں امام محمد-رحمہ اللہ تعالی- کا اختلاف ہے؛ کیونکہ وہ دو پیسوں کو ایک پیسے کے بدلے میں بیچنے سے منع فرماتے ہیں، مگر ان سے جوروایتِ مشہورہ مروی ہے اس کے مطابق یہ بھی امام اعظم- رضی اﷲ تعالیٰ عنہ -اور امام ابو یوسف -رحمۃ اﷲ تعالی علیہ- کے ساتھ اس مسئلہ کے جائز ہونے پر متفق ہیں، اور انکا جو قول صاحبین -رحمھما اللہ- کے مخالف ہے" نہرالفائق" وغیرہ میں منقول    ہے۔
 ("رد المحتار" في شرح" الدر المختار"، کتاب البیوع، باب السلم، ج۷، ص۴۸۰)
     شاید" نہر الفائق "نے یہ بات قاری الہدایہ کے فتویٰ کی تأویل کے لئے ظاہر کی تاکہ یہ بات ان کے فتویٰ کے لئے سند ہوجائے، اگرچہ نوادرمیں ہی ، چنانچہ اس قول کی بنا پر علامہ قاری الہدایہ کے فتویٰ پر اعتماد نہیں کیا جائے گا ،نیز "ہدایہ" میں ہے کہ اسی طرح پیسوں میں بھی بیعِ سَلم جائز ہے، جبکہ گنتی کرکے دیئے جائیں اور یہ قول ہے
Flag Counter