مگر تحقیق یہ ہے کہ نوٹ میں بیعِ سلم کا بیان امام محمد- رحمہ اﷲ تعالیٰ- سے مروی ایک روایتِ نادرہ پر مبنی ہے، ورنہ متون میں تو پیسوں میں بیعِ سَلم کے جائز ہونے پر نص ہے، ہاں! ثمنِ خلقی میں بیعِ سَلم جائز نہیں اور ثمنِ خلقی صرف سونا اور چاندی ہیں، ان کے علاوہ کوئی اور نہیں؛ کیونکہ بائع و مشتری سونا چاندی کی ثمنیت کو باطل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے، جبکہ ثمنِ اصطلاحی کی ثمنیت باطل کی جاسکتی ہے" تنویر الابصار" اور " در مختار" میں ہے کہ بیعِ سَلم ہر اس چیز میں جائز ہے جس کی صفت کا تعین ہوسکے، مثلاً اس چیز کا کھرا یا کھوٹا ہونا اور اس کی قدر
کی پہچان ہوسکے، مثلاً ناپ والی چیز یا موزونی چیز۔
مصنف ( علامہ شمس الدین تمرتاشی صاحب" تنویر الابصار" )کے اس قول سے کہ"وہ چیز ثمن نہ ہوں"چاندی کے روپے اورسونے کی اشرفیاں بیعِ سَلم کے جواز سے نکل گئے؛ کیونکہ یہ دونوں ثمن ہیں لہٰذا ان میں بیعِ سَلم جائز نہیں، اس مسئلہ میں امام