| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
علامہ کثیر المعرفۃ - رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ-کی بہ نسبت میں ہی غلطی سے زیادہ قریب ہوں۔۔۔۔۔۔!۔
پھر میں یہ کہتا ہوں کہ اگر ہم اسے تسلیم بھی کر لیں تو پھر بھی ہمیں یہ کہنے کا اختیار حاصل ہے کہ علامہ قاری الہدایہ صاحب کا بیان کردہ حکم پیسوں (سکّوں) ہی میں جاری ہوتا ہے، جبکہ نوٹ دراصل تول والی چیز نہیں ہے؛ کیونکہ کاغذ کے پرچے، عرف میں کبھی نہیں تولے جاتے(۱)۔ لہٰذا معیار(Measure)
کاغذ کو شامل نہ ہوا، جیسے غلّہ سے ایک مٹھی اور سونے سے ایک ذرّہ کو شامل نہیں ہوتا، لہٰذا ہمارا یہ مسئلہ ہر حال میں مخالفت سے محفوظ ہے اور تمام خوبیاں تو اﷲ بزرگی والے کے لئے ہی ہیں۔ تحقیق ایسی ہی ہونی چاہے اور توفیق دینے والا تواﷲ تبارک و تعالیٰ ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ۱۔۔۔۔۔۔اس بات کا تعلق امام اہلسنت کے زمانے کے عرف سے ہے، جبکہ ہمارے عرف میں کاغذ دونوں طرح سے بکتا ہے، یعنی تول کر بھی اور گن کر بھی۔ ہاں! جہاں تک نوٹ کا تعلق ہے وہ اب بھی گن کر فروخت ہوتا ہے تول کر فروخت نہیں ہوتا۔ اس کی واضح مثال عیدَین یا دیگر تہوار کے مواقع پر لوگ کڑک اور نئے نوٹوں کی دستیاں زائد رقم دیکر خریدتے ہیں اور یہ سارا معاملہ گِن کر ہی ہوتا ہے، مگر خیال رہے کہ اگر نوٹ کو نوٹ کے عوض بیچاجائے تو کمی بیشی جائز ہے مگر ہم جنس یعنی کاغذ ہونے کی وجہ سے اُدھار ناجائز ہے ۔ ہاں البتہ! اگر مختلف ممالک کے نوٹ ہو ں تو کمی بیشی اور اُدھار دونوں جائز ہیں ،بس ایک جانب سے قبضہ کافی ہے مثلاً پاکستانی روپیہ کو سعودی ریال کے عوض بیچا تو ریال یا روپیہ میں سے کسی ایک پر اسی مجلس میں قبضہ کافی ہے۔