Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
106 - 199
ثمنیت کو باطل بھی کرسکتے ہیں، اور ثمنیت باطل ہوجانے کے بعد پیسوں کو معین کرنے سے پیسے معین بھی ہوجائیں گے، نیز ثمنیت باطل ہو جانے کے بعدپیسے تولنے والی چیز نہیں ہوں گے؛ کیونکہ اصطلاح میں ان کا گنتی والی شئے ہونا باقی ہے"۔
(" الھدایۃ" في شرح "بدایۃ المبتدي"، کتاب البیوع، باب الربا، ج۳، ص۶۳)
    عنقریب ہم آپکو بتائیں گے کہ امام محمد- رحمہ اللہ- بھی بیعِ سلم میں ثمنیت کے باطل ہونے کو تسلیم کرتے ہیں، مگر انہوں نے بیع میں دلیل نہ ہونے کی و جہ سے اس کا انکار فرمایا، اس تفصیل سے اس مسئلہ پر ہمارے تمام ائمہ کا اجماع ثابت ہوا، لہٰذا اس صورت میں چاندی کے روپے یاسونے کی اشرفی کے عوض پیسوں کی بیعِ سَلم کرنا ثمن کی بیعِ سَلم
(V.alivrer)
 نہیں اور نہ ہی اس صورت میں تول کر دی جانے والی دو چیزوں کی بیع سَلم ہے، بلکہ تول والی چیز کے عوض گِن کر بیچی جانے والی چیز کی بیعِ سَلم ہے، جس کے افراد آپس میں مشابہت رکھتے ہیں، اور ہمارے علماء- رحمہم اﷲ تعالیٰ -کا اجماع ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔

    الحاصل بندہ ضعیف (امام اہلسنت علیہ الرحمۃ) علامہ قاری الہدایہ کے اُس فتویٰ کے صحیح ہونے کی کوئی و جہ نہیں جانتا، آپ غور کریں شاید اُن کے کلام کے لئے کوئی ایسی و جہ ہو جو میں اپنی کم فہمی
(Ignorance)
 سے نہ جان پایا ہوں اور کیا عجب کہ ان
Flag Counter