Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
105 - 199
اور اس حکم کے معاملے میں ان کی دلیل"مبسوط" میں مذکور امام محمد کا قول ہے، اور بے شک وہی قولِ فیصل ہے۔ 

پھر یہ کہ علامہ قاری ـالہدایہ نے اس کے علاوہ جو ذکر کیا ہے اس میں ہمارے مذہب حنفی کے مسائل سے دو صریح بھُولیں
(Two Clear Amazements)
 ہیں:۔

ایک بھُول تو اس بات سے جو ہمارے علماء کرام رحمہم اللہ نے تصریح فرمائی ہے کہ

" پیسے اصطلاح
(Terminology)
 کے سبب وزن کی چیز ہونے سے خارج ہوکر گنتی کی چیز ہوگئے"۔ 

اور دوسری بھُول اس سے جس پر ہمارے علماء کرام رحمہم اللہ نے نص فرمائی کہ

" پیسوں کا ثمن ہونا بائع اور مشتری کی اپنی اصطلاح سے باطل ہوجاتا ہے، اور ثمنیت کے باطل ہونے سے پیسوں کی وہ اصطلاح جو ٹھہری ہوئی ہے کہ پیسے گنتی کی چیز ہیں، باطل نہیں ہوتی "۔

    اور ان تمام باتوں کی "ہدایہ "وغیرہ میں وضاحت موجودہے۔ "ہدایہ شریف" کی عبارت یہ ہے کہ:۔

    "امام اعظم اور امام ابو یوسف- رحمہما اللہ- کی دلیل یہ ہے کہ کسی شئے کا بائع و مشتری کے حق میں ثمن ہونا ان کی اپنی اصطلاح سے ثابت ہوتا ہے؛ کیونکہ غیر کو عاقدَین پر ولایت
(Guardianship)
 حاصل نہیں، لہٰذا وہ اپنی اصطلاح میں
Flag Counter