اور پیسوں کے عوض چاندی کا روپیہ ادھار بیچنے میں یہ علت
جاری نہیں ہوسکتی ،جیسا کہ پوشیدہ نہیں، تواب نوٹ اور چاندی کے روپے میں یہ علت کیسے جاری ہو سکتی ہے جبکہ جنس اور قدر دونوں ہی واضح طور پر مختلف ہیں لہٰذا قاری الہدایہ کی عبارت کا بہترین محمل وہی ہے جو "نہر الفائق" میں ذکر کیا گیاہے، اس صورت میں وہ امام محمد- رضی اﷲ تعالیٰ عنہ- سے مروی ایک روایتِ نادرہ پر مبنی ہوگی اور اس کا بیان عنقریب آئے گا ،اور اگر اسے نہ مانا جائے تو کیا ہوا! وہ علامہ صاحب کا ایک فتویٰ ہی تو ہے جس کے ساتھ کوئی سند
نہیں ہے، اور نہ اس فتویٰ میں اس سے پہلے کوئی انکا مستند
معلوم (۱)نہ وہ اس پر کسی نقل سے سند لائے، اور علامہ شامی نے ان کے لئے جو تکلف کیا اس کا حال معلوم ہوچکا تو اس سے کیونکر معارضہ ہوسکتا ہے اس حکم (۲) کا جس پر یہ اکابر علماء کرام متفق ہیں جن کے اسمائے گرامی اوپر مذکور ہوئے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱۔۔۔۔۔۔ یعنی جو طریقہ علامہ شامی نے ذکر کیا ہے اس کے مطابق اگر اسے بیعِ صرف کی طرف پھیریں تو اس کے ضعف کا تمہیں علم ہے۔ ۱۲ منہ
۲۔۔۔۔۔۔جو" مبسوط" سے منقول ہے کہ" کسی نے چاندی کے روپوں کے بدلے ریزگاری خریدی، خریدار نے چاندی کے روپے ادا کردیئے مگر بائع نے پیسے ادا نہ کئے تو یہ بیع جائز ہے"۔