Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
103 - 199
کا اعتبار کیا جاتا ہے قبضہ طرفین کا نہیں، تو اس کی شرح میں صاحب" بحر "نے فرمایا کہ اسکی وضاحت امام اسبیجابی کا یہ قول ہے کہ "جب ناپ کی چیز کو ناپ والی چیز کے عوض یا تول کر بیچی جانے والی چیز کو تول والی چیز کے عوض بیچا جائے خواہ دونوں کی جنس ایک ہی ہو یا دونوں کی جنس مختلف ہوں تو بیع کے جواز کے لئے مبیع وثمن دونوں چیزوں کا معین ہونا شرط ہے چاہے وہ چیزیں وہاں حاضر ہوں یا غائب، البتہ عاقدَین
(Contractors)
 کی ملک میں ہونا چاہیں"۔
(" البحر الرائق" ، کتاب البیوع، باب الربا، قولہ یعتبر التعیین دون التقابض...إلخ، ج۶، ص۲۱۷)
    پیسوں کی باہم بیع میں تعین کو واجب کرنے کی دلیل یہی ہے کہ اگر ایک معین پیسے کو دو غیر معین پیسوں کے عوض بیچا جائے تو بائع
(Seller)
کو اختیار ہوگا کہ وہ معین پیسہ اپنے پاس رکھ لے اور مشتری
(Purchaser)
سے دوسرا پیسہ طلب کرے، یامعین پیسہ مشتری کو دے کر پھر اسی پیسے کو ایک پیسے کے ساتھ اس سے واپس لے لے؛ کیونکہ اس صورت میں مشتری کے ذمے بائع کے دو پیسے واجب ہوگئے، لہٰذا بائع کا اپنا مال تو بعینہ اس کی طرف لوٹ آیا اور دوسرا پیسہ بلا معاوضہ رہ گیا۔

    اسی طرح سے اگر دو معین پیسوں کو ایک غیر معین پیسے کے عوض بیچا جائے تو مشتری دونوں پیسے لے لے گا، اور اس کے ذمے جو ایک پیسہ لازم ہوا ہے اسے انہیں دو پیسوں میں سے بائع کو لوٹا دے گا، جبکہ دوسرا پیسہ معاوضے کے بغیر زائد رہ گیا جس کا وہ
Flag Counter