| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
اعتراضِ مذکور سے محافظت رہتی۔
اب میں اﷲ کی توفیق سے کہتا ہوں: کہ یہ بات تو تم پر ظاہر ہے کہ مبیع و ثمن
کا معین ہونا صرف اموال رِبا میں شرط ہے، اور اموال رِبا صِرف دو قسم کی چیزیں ہیں (۱) جو ناپ یا(۲) تول کر بیچی جاتی ہیں، جبکہ وہ چیزیں جن کی خریدو فروخت گنتی کرکے ہوتی ہے، اموالِ ربانہیں۔" فتح القدیر" وغیرہ کے باب السَلم میں اس بات کی تصریح موجود ہے کہ بیعِ سلم صرف اموال رِبامیں منع ہے، جبکہ انہیں اپنی ہی جنس کے عوض بیچا جائے، اور گن کر بیچی جانے والی چیزیں اموال رِبا میں سے نہیں۔("فتح القدیر"، کتاب البیوع، باب السلم، ج۶، ص۲۰۸)جیسا کہ"کنز "کے اس قول کی شرح میں کہ "جب دونوں نہ ہوں تو دونوں حلال ہیں"،کے تحت"بحر الرائق" میں فرمایاکہ یعنی "جب قدر
(Weight And Measurement)
و جنس
(Spesies)
دونوں نہ ہوں تو کمی بیشی اور ادھار دونوں حلال ہیں، لہٰذا"ہرات " کے بنے ہوئے ایک کپڑے کو"مرو"کے بنے ہوئے دو کپڑوں کے عوض بیچنا جائز ہے ( ہرات اور مرو،د ومقامات کے نام ہیں ) اسی طرح انڈوں کے عوض اخروٹ ادھار بیچنا بھی جائز ہے"۔
("البحر الرائق"، کتاب البیوع، باب الربا، قولہ (وحلا ًعدمھما) ج۶، ص۲۱۵)اور صاحب" کنز "نے جو یہ فرمایا کہ" بیعِ صرف کے علاوہ اموال رِبا میں تعین