ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱۔۔۔۔۔۔مبیع اورثمن کا معین ہونا اس وقت ضروری ہوتاہے جبکہ ادھار نہ ہو، اور ادھار نہ ہونا ہی مبیع و ثمن کے معین ہونے کو لازم ہے اور یہاں ایسا نہیں بلکہ بعض اوقات دونوں باتیں نہیں ہوتیں کہ نہ ادھار ہو نہ دونوں جانب معیّن چیزیں ہوں جیسے مذکورہ مثال میں ۔ ۱۲ منہ رضی اﷲ عنہ
۲۔۔۔۔۔۔ کہ وہ ان کے فتویٰ کے حکم یعنی ناجائز ہونے کی دلیل ہو اگرچہ یہ حکم بیعِ صرف کی وجہ سے ثابت ہوا بیعِ سلم کی وجہ سے نہیں۔"ہندیہ" میں "محیط "کے حوالے سے جو مسائل مذکور ہیں کہ غلہ قرض لینے والا اگر قرض خواہ سے وہ غلہ سو روپے میں خرید لے تو یہ جائز ہے جبکہ ایسا غلہ خریدے جو اس کے ذمے لازم ہوا ہو نہ کہ وہ غلہ جو قرض لیا تھا، اس صورت میں قیمت اسی جلسے میں ادا کرنا ضروری ہے ورنہ یہ بیع حرام ہوگی ؛کیونکہ عاقدین دونوں طرف ادھار کی حالت میں جدا ہوئے ۔پھر فرمایا کہ روپے پیسے اور اشرفیوں کے قرض ہونے کی صورت کے علاوہ ہر ماپ تول کی چیز کا یہی حکم ہے۔
اس طرح انہوں نے پیسوں کو بھی روپوں اور اشرفیوں کی طرح ذمہ پر قرض ہونے والی چیزوں میں شمار کیا، لہٰذا ان کی خرید و فروخت ناجائز ہے اگرچہ قیمت اسی جلسہ میں ادا کردی جائے، اور صحیح وہی قول ہے جسے ہم بحوالہ" ہندیہ"، "ذخیرہ" سے نقل کرچکے ہیں کہ بیع صَرف کے علاوہ ہر قسم کی بیع میں فقط یہ بات منع ہے کہ دونوں طرف میں سے کسی پر حقیقۃً قبضہ نہ کریں اگرچہ ایک پر حکمی قبضہ ہو جائے، مثلاً قرضہ اگر کسی کے ذمے ہو تو حکمی طور پر وہ قبضہ میں ہوتا ہے مگر جب مبیع یا ثمن میں سے ایک پر قبضہ ہوجائے تو جائز ہے، اسی طرح سے "رد المحتار" میں" وجیز" کے حوالے سے منقول ہے غرضیکہ اس صورت کو بیعِ صرف قرار دینااسے ہمارے عام علماء کے اس قول سے پھیرنا ہے جسے انہوں نے متعدد کتب میں نصّ فرمایا۔ واﷲ اعلم