بھی موجود ہے اور جس بات میں احتمال پیدا ہوجائے وہ حجت نہیں رہتی بخلاف" مبسوط" کی عبارت کے؛ کیونکہ وہ طرفین کے قبضہ کے شرط نہ ہونے میں نصّ ہے، اور کیسی زبردست نصّ ہے وہ آپ سن چکے ہیں، لہٰذا اسی پر اعتماد کرنا چاہے۔ اور توفیق تو اﷲ عظمت والے بادشاہ ہی کی طرف سے ہے۔ یاد رہے کہ یہ کلام تو ہماری طرف سے علامہ شامی کے ساتھ ان کی روش پر چلنا تھا جس سے "جامع صغیر "کی مراد کو ظاہر کرنا مقصود
(Intended)
تھا، ورنہ حق تو یہ ہے کہ علامہ قاری الہدایہ کے فتویٰ کو اس بات کی حاجت نہیں کہ "جامع صغیر"کی عبارت کو طرفین کے قبضہ کے شرط ہونے پر محمول کیا جائے (۱)اور نہ ہی وہ اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں(۲)اور نہ ہی انکا دعویٰ اس پر موقوف ہے ؛کیونکہ وہ تو ادھار کو حرام فرمارہے ہیں ،اور ادھار کے حرام ہونے کے لئے مبیع و ثمن
(Sold thing and Estimated Cost)
کا معین ہونا ضروری نہیں چہ جائیکہ قبضہ طرفین ضروری ہو، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی شخص ایک روپیہ نقد کے عوض کپڑا بیچے تو اس صورت میں نہ ہی ادھار ہے اور نہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ۱۔۔۔۔۔۔ کیونکہ وہ( علامہ قاری الہدایہ) تو اسے بیع سَلم (V.alivrer) مان رہے ہیں اور تم( علامہ شامی) اسے بیعِ صرف کہہ رہے ہو۔ ۱۲منہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ۲۔۔۔۔۔۔ اس لئے کہ ثمن میں بیعِ سَلم اصلاً جائز نہیں چاہے اس چیز میں ہو جس میں دونوں طرف کا قبضہ شرط ہے جیسے ثمن کے عوض ثمن کی بیعِ سَلم، یا قبضہ طرفین شرط نہ ہو جیسے ثمن میں مبیع کی بیع سَلم ۔ ۱۲ منہ رضی اﷲ عنہ