(یعنی اے اللہ! مجھے حرام سے بچاتے ہوئے(صرف) حلال کے ساتھ کفایت کراور اپنے فضل وکرم کے ذریعے اپنے سوا سے بے پرواہ فرمادے۔) تاحُصولِ مُرادہرنَماز کے بعد 11،11 بار اور صبح وشام100،100 بار روزانہ (اوّل وآخِر ایک ایک بار دُرُودشریف) پڑھئے۔اس دُعا ء کے بارے میں حضرتِ مولائے کائنا ت ، عَلیُّ الْمر تَضٰی شیرِ خدا کرَّم اللہ تعالٰی وَجْہَہُ الکریم کا ارشادِ شفقت بنیاد ہے:''اگرتجھ پر پہاڑ جتنا بھی قرض ہوگا تو اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ادا ہوجائے گا۔''(سُنَنُ التِّرْمِذِیّ ج۵ص۳۲۹حدیث۳۵۷۴دار الفکر بیروت )
صبح وشام کی تعریف : آدھی رات کے بعد سے لیکر سورج کی پہلی کرن چمکنے تک صُبح ہے اور ابتِداءِ وقتِ ظہر سے غُروبِ آفتاب تک شام کہلاتی ہے۔ (الوظیفۃ الکریمۃ ص۹)