Brailvi Books

خود کُشی کا علاج
74 - 80
پریشانیو ں میں مزید گھِر جاتے ہیں ۔ ثالِثاً خودکُشی سے جان چُھو ٹتی نہیں بلکہ مزید اور وہ بھی شدید پھنس جاتی ہے ۔تو اُس شخص کیلئے کس قَدَر نقصان اور خُسران کی بات ہوگی جو شیطان کے وسوسوں میں آ کرخودکُشی کرکےخود کو عذابِ قبر و حشر و نار کا حقدار بنا لے ۔ نیز یہ کیسی بے مُرُوَّتی ، اور بے وفائی ہے کہ خاندان والوں اور عزیزوں کے گلے میں بد نامی و شرمندَگی کا ہار ڈال کر دنیا سے رخصت ہو نیز خود اپنے دشمنوں کوبھی خوشی فراہم کرتا چلے ۔لہٰذااِسی طرح کے مَدَنی تصوُّرات کے ذَرِیعیشیطان مردود کو باِ لکل ما یوس کرد ے اور ایمان پر استِقامت کے عزمِ صَمیم سے اُس دُزدِ رجیم( یعنی مردود چورشیطان) کااس طرح کہہ کر منہ پھیر دے کہ میں کیوں کروں خودکُشی ؟خودکُشی کرے میری بلا!مجھے تو اپنے ربِ اکرم 

عَزَّوَجَل کے فضل وکرم سے بَہُت اُمّید ،اُمّید اور اُمّید ہے، اور خود کشی تو وہ کرے جسے اللہُ رَبُّ الْعِزَّت کی رَحمت سے مایوسی ہو ۔اللہُ رَبُّ الْعِزَّت عَزَّوَجَلَّ کی رحمت بَہُت زبردست ہے ۔ وہ ضَرورضَرورضَرورمیری پریشانیاں بھی دور فرما ئے گا اور مجھ گنہگارکو محض اپنے فضل وکرم سے بِلا حساب و کتاب بخش بھی دے گا۔ باِلفرض بظاہر پریشانیاں دور نہیں بھی ہوتیں تب بھی میں اُس کی رضا پر راضی ہوں میں خُودکُشی