Brailvi Books

خود کُشی کا علاج
73 - 80
بیمار اور ذِہنی دباؤ کاشکار پاتے ہیں۔
کیا آپ خود کُشی کرنا چاہتے ہیں؟ ٹھہریئے۔۔۔۔!
    جب کوئی بیمار ،بے رُوز گا ر، قرضدار،سخت ٹینشن کا شکار یا کوئی غُصِیلا اور جذباتی آدمی دِلبرداشتہ ، یا کوئی امتحان میں فیل ہونے پر طعنہ زنی سے خائف یا پسند کی شادی میں جب ناکام ہو جاتا ہے تو شیطان ہمدرد بن کر آتا اور بہکاتا ہے کہ تم اتنے پریشان ہو تو آخر خود کُشی کیوں نہیں کرلیتے کہ ان جَھنجَھٹوں سے جان چھو ٹے ۔ جذباتی مرد و عورت کی عقل ایسے مواقِع پر بسا اوقات ساتھ چھوڑ دیتی ہے اور وہ خودکُشی پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا شیطان جب خودکُشی کے وسوسے ڈالے توایسی صورت میں آپ با لکل ٹھنڈے دِماغ سے شیطان کے وسوسوں کو رَدّ کیجئے اور خود کُشی کے دُنیوی نقصا نات اور اُخروی عذابات کو خیالات میں اس طرح دُہرایئے اوّلاً یہ فِعل اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو ناراض اور عزیز و اقا رِب کو غمگین کرنے والا اور ہمارے دشمنوں یعنی شیاطین اور ان کے مُتَّبِعِین یعنی کافِرین کو راضی کرنے والا ہے ۔ ثانِیاًاس سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ خود کُشی کرنے والے کے عزیز و اقا رِب دُکھوں اور
Flag Counter