Brailvi Books

خود کُشی کا علاج
72 - 80
اے بے کسوں کے ہمدم دنیا کے دور ہوں غم 

بس جائے دل میں کعبہ سینہ بنے مدینہ
بیمار بادشاہ
    پڑوسی ملکوں کے دو بادشاہوں میں گہری دوستی تھی ، ان میں ایک بادشاہ طرح طرح کے امراض اور ٹینشن سے تنگ جبکہ دوسرا بادشاہ خوش حال اور صِحّت مند تھا ۔ ایک بار بیمار بادشاہ نے تندُرُست بادشاہ سے کہا:میں ماہِر طبیبوں سے علاج کروانے کے باوُجُود حُصولِ صحّت میں ناکام ہوں، آپ کس طبیب سے علاج کرواتے ہیں ؟تندُرُست بادشاہ نے مسکرا کر کہا: میرے پاس دو طبیب ہیں۔ بیمار بادشاہ نے کہا: برائے کرم!مجھے بھی ان سے ملوا دیجئے ، اگر انہوں نے میرا علاج کر دیا تو اُن کو مالا مال کردوں گا ۔ تندُرُست بادشاہ ہنس پڑا اور کہنے لگا : میرے طبیب میرا بِالکل مُفت علاج کرتے ہیں اور وہ دو طبیب ہیں میرے دونوں پاؤں!اور طریقِ علاج یہ ہے کہ ان کے ساتھ میں خوب پید ل چلتا ہوں لہٰذا میر ی صحّت اچّھی رہتی ہے اور آپ غالِباً زیادہ تر بیٹھے رہتے ،پیدل چلنے سے کتراتے ، اور تھوڑے تھوڑے فاصِلے پر بھی سُواری پر آتے جاتے ہیں لہٰذا خود کو
Flag Counter