دُرُود شریف پڑ ھتے جایئے اور لگاتار چلتے جایئے ،چلنے میں یہ کوشِش فرمائیے کہ پاؤں کے پنجوں پر قَدرے وزن پڑتا رہے،چلنے کیلئے فَجر کا وقت بہتر ہے کہ اُس وقت ماحول عُمُوماً گاڑِیوں کے دھوئیں اور گرد وغبار سے پاک، فَضاء میں نکھار اور ہوا خوشگوار ہو تی ہے۔ایک روایت کے مطابِق جنّت میں ہر وَقت اسی وَقت کا سا سَماں ہو گا ۔اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کا ہاضِمہ دُرُست ہوگا ،آپ کے اَعضاء بہتر طور پر کام کریں گے ، دورانِ خون تیز ہو گا اور خون کی گردِش تیز ہو نے سے جسم سے ایک خاص قسم کا زہریلا مادّہ خارِج ہو تا ہے، جس کی خاصیَّت افیون سے ملتی جُلتی ہے۔ اس کے خارِج نہ ہو نے سے مختلف دَردوں اور تکالیف میں اِضافہ ہو تا رہتا ہے۔ مذکورہ طریقے پر اگر مسلسل پیدل چلنے والی ورزش کیا کریں گے تو یہ زہریلا مادّہ جسم سے خارِج ہو تا رہے گا جس سے مختلف جسمانی تکالیف سے راحَتیں ملیں گی ،ذِہنی دباؤ یعنی ٹینشن میں کمی آئے گی اور اگر خون میں گندا کولیسٹرول بھی زائد ہوا تو وہ بھی خارِج ہو گااور دماغ کو تازَگی مُیَسَّر آئیگی ۔ جب ذِہن تروتازہ رہیگا تو خود کُشی کا خیال کبھی بھی قریب نہ آئیگا ۔ اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ