بے رُوز گاری یاقرضداری سے تنگ آ کر بھی بعض لوگ خود کُشی کی راہ لیتے ہیں۔ آسائشوں ، عُمدہ غذاؤں ،شادِیوں وغیرہ کے موقَعَوں پر فُضول خر چیو ں ، گھر کے اندر کی سجاوٹوں،گاڑیوں وغیرہ کیلئے زِیادہ سے زِیادہ رقم کی طلب اور بَہُت بڑا سرمایہ دار بن جانے کے سُنہرے خواب بھی اس کے اسباب ہیں۔ اگر رَہنے سَہنے، کھانے پینے وغیرہ میں حقیقی سادَگی اپنانے کامَدَنی ذِہن بن جائے تو قلیل آمَدَنی پر گزارہ کرنا آسان ہو جائے اور اس سبب سے شاید کوئی بھی مسلمان خودکُشی جیسا حرام اورجہنَّم میں لیجانے والا کام نہ کرے ۔ در اصل علمِ دین سے دُوری کی وجہ سے بھی ایسا ہو رہا ہے ۔ آپ نے کبھی نہیں سنا ہو گا کہ فُلاں عالم یا پیش امام صاحِب نے خودکُشی کر لی !حالانکہ حضراتِ عُلَمائے کرام کی اکثریت قلیل آمدنی پر گزارہ کرتی ہے ۔