Brailvi Books

خود کُشی کا علاج
56 - 80
عُریانی و فَحّاشی، مخلُوط تعلیم ، بے پردَگی ، فِلم بینی ، ناوِلوں اور اخبارات کے عِشقیہ وفِسقیہ مضامین کا مُطالَعہ وغیرہ عشقِ مجازی کے اسباب ہیں۔ لاشُعوری کی عمر میں ایک ساتھ کھیلنے والے بچّے اور بچّیاں بھی بچپن کی دوستی کی وجہ سے اِس میں مبتَلا ہو سکتے ہیں۔والِدَین اگر شُروع ہی سے اپنے بچّو ں کوغیروں بلکہ قریب ترین عزیزوں بلکہ سگے بھائی بہنوں تک کی بچّیوں اور مُنّیوں کو اِسی طرح دوسروں کے مُنّوں کے ساتھ کھیلنے سے باز رکھنے میں کامیاب ہو جائیں اور بیان کردہ دیگر اسباب سے بچانے کی بھی سَعی کریں تو عشقِ مجازی سے کافی حد تک چُھٹکارا مل سکتا ہے۔ بچّوں کو بچپن ہی سے االلہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مَحَبَّت کادرس دینا چاہئے ۔ اگر کسی کے دل میں حقیقی معنوں میں مَحَبَّتِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ و سلَّم جاگُزیں ہو گئی توان شاء االلہ عَزَّوَجَلَّ عشقِ مجازی سے محفوظ ہو جائے گا۔
مَحبَّت غیر کی دل سے نکالو یا رسولَ اللہ                    مجھے اپنا ہی دیوانہ بنا لو یا رسولَ اللہ
Flag Counter