(یعنی آخِرت )کی طرف جانے کی فکر میں لگا ہواہواوریہ نہ جانتاہوکہ جنّت میں جاناہے یا دوزخ ٹِھکانہ ہے۔''
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے! ہمارے اَسلاف رَحِمَہُمُ اللہُ تعالٰی کو صِرف آ خِرت کی دُھن ہوتی تھی ، کیسی ہی فاقہ مستی اورتنگدستی ہوتی وہ ذرّہ برابر اس کی پرواہ نہ کرتے کیونکہ ان نُفُوسِ قُدسِیَّہ کا ذِہن بنا ہو اہوتا تھا کہ دُنیا کی تکالیف میں تو جُوں تُوں کرکے گزارہ ہو ہی جائے گالیکن مَعاذَااللہ عَزَّوَجَلَّ قبرو آخِرت میں اگر تکالیف کا سامنا ہوا تو بُری طرح پھنس جائیں گے۔اِس سے ہمار ے وہ اسلامی بھائی بھی عبرت حاصِل کریں جو دُنیا میں تنگدستی کیلئے تو فکر مند ہوتے ہیں مگر آخِرت کی مشکِلات سے نَجات کی طرف کوئی توجُّہ نہیں ہوتی !حالانکہ(دُنیَوِی ) تنگدستی جس سے یہ پریشان ہیں صبر کریں تو آخِرت میں اِس کیلئے چھٹکارے کا سامان ہے۔
مَصائب و آلام پرصَبْر کا ذِہن بنانے کیلئےعاشِقانِ رسول کےساتھ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلوں میں سفر کی خوب سعادت حاصل کیجئے۔