مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان حدیثِ پاک کے الفاظ '' اگر تمہیں نقصان پہنچ جائے تو یہ مت کہو کہ اگر میں اس طرح کرتا تو یوں ہو جاتا'' کے تحت فرماتے ہیں:کیونکہ یہ کہنے میں دل کو رنج بھی بَہُت ہوتا ہے رب تعالیٰ بھی ناراض ہوتا ہے۔ اگر(مَثَلاً کہنا) میں اپنا مال فُلاں وَقت فروخت کر دیتا تو بڑا نفع ہوتا مگر میں نے غلطی کی کہ اب فروخت کیا، ہائے! بڑی غلطی کی(اس طرح کی باتیں کرنا) یہ بُرا ہے۔ لیکن دینی مُعامَلات میں ایسی گفتگو اچّھی۔ یہاں دُنیوی نقصانات مُراد ہیں۔اور یہ الفاظ ''اگر مگرکا لفظ شیطان کاکام شروع کر دیتاہے''