Brailvi Books

خود کُشی کا علاج
37 - 80
ہائے میرے پاس مال کم ہے اور اپنی عبادت پرفَخر کریگا کہ فلاں بے نمازی ہے اور میں نمازی ہوں میں اس سے کہیں اچّھا ہوں یہ ہے اس کا تکبُّر۔ رب تعالیٰ فرماتاہے:
لِّکَیۡلَا تَاۡسَوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ وَ لَا تَفْرَحُوۡا بِمَاۤ اٰتٰىکُمْ ؕ
(ترجَمۂ کنزالایمان : اس لیے کہ غم نہ کھاؤ اس پرجو ہاتھ سے جائے اور خوش نہ ہواس پر جو تم کو دیا)۔ (پ۲۷ الحدید ۲۳)  فرمایانبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے: جو شخص دنیا کی کمی پر رنج کرے وہ ایک ہزار سال کی راہ دوزخ سے قریب ہو جاوے گا اور جو شخص دینی کوتاہی پر رنج کریگا وہ جنَّت سے ایک ہزار سال کی راہ قریب ہوجاوے گا
(اَ لْجَامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوْطِیّ ص۵۱۳ حدیث۸۴۳۲)
(مرقات یہ ہی مقام) خیال رہے کہ دنيا میں ترقی کرنے کی کوشِش کرنا منع نہیں بلکہ مالداروں کی مالداری پر رشک کرنا ممنوع ہے۔
کون کِس کی طرف دیکھے؟
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جو نیکیوں میں کمزور ہیں وہ نیکیوں میں آگے بڑھے ہوؤں پر رَشک کر کے اُن کی طرح نیکیاں بڑھانے کی جُستجُو کریں
Flag Counter