Brailvi Books

خود کُشی کا علاج
36 - 80
ہوئے ہم بھی حُضور(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کے جمال سے آنکھیں ٹھنڈی کرتے ان کے قدموں پر جان فِدا کرتے یہ ہے صبر۔ شعر
جو ہم بھی واں ہوتے خاکِ گلش لپٹ کے قدموں کی لیتے اُترن

مگر کریں کیا نصیب میں تو یہ نامرادی کے دن لکھے تھے
    مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ  مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان مراٰۃ المناجیح جلد 7صَفْحَہ76 اور77پر''اور اپنی دنیا میں اپنے سے نیچے والے کو دیکھے تو اللہ کا شکر کرے اس پر کہ اللہ نے اسے اس شخص پر بُزُرگی دی۔''کے تحت فرماتے ہیں:اس چیز کو سوچنے سے اس پر بڑی مصیبت آسان ہو جاوے گی اور وہ رب تعالیٰ کا شکر ہی کریگا ہم نے آزمایا ہے کہ کسی کا جوان بیٹا فوت ہو جائے اسے صبر نہ آوے وہ حضرتِ علی اکبر(رضی اللہ تعالیٰ علیہ) کی شہادت میں غور کرے۔ اِن شاءَ اللہ فوراً  صَبْرنصیب ہو گا بلکہ اپنے آرام پر شکر کریگا۔مفتی صاحب حدیثِ پاک کے بقیہ حصّے کے تحت فرماتے ہیں: بلکہ ایسے شخص کی زندگی حسد،جلن، بے صبری اور دل کی کوفت(یعنی قلبی رنج) میں گزرے گی امیروں کو دیکھ کر جلتا بُھنتا رہے گا کہ
Flag Counter