Brailvi Books

خود کُشی کا علاج
29 - 80
اُس کا سبب ہمارے اپنے ہی کرتُوت ہیں جیسا کہ پارہ 25 سورۃُ الشُّوْرٰی کی 30 ویں آیتِ کریمہ میں ارشادِ ربّانی ہے:
وَ مَاۤ  اَصَابَكُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ  فَبِمَا کَسَبَتْ اَیۡدِیۡكُمْ وَ یَعْفُوۡ عَنۡ کَثِیۡرٍ ﴿ؕ۳۰﴾
ترجَمَۂ کنزُالایمان: اورتمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور بَہُت کچھ تو مُعاف فرما دیتا ہے۔
تکلیف میں گناہوں کا  کَفّارہ بھی ہے
    اِس آیتِ مقدّسہ کے تَحت حضرتِ صدرُالْاَ فاضِل حضرت علامہ مولیٰنا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی خَزائِنُ العِرفان میں فرماتے ہیں :'' یہ خِطا( اُن) مُؤمِنِین مُکَلَّفِین(یعنی عاقِل بالغ مسلمانوں)سے ہے جن سے گناہ سَرزد ہوتے ہیں، مُراد یہ ہے کہ دنیا میں جو تکلیفیں اور مصیبتیں مؤمِنِین کو پہنچتی ہیں اکثر ان کا سبب ان کے گنا ہ ہوتے ہیں ان تکلیفوں کو اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کا کفّارہ کر دیتا ہے ۔ اور کبھی مومِن کی تکلیف اُس کے رَفعِ
Flag Counter