'' جنّت تکالیف سے ڈھانپی ہوئی'' کہ تحت فرماتے ہیں: جنّت بڑا باردار باغ ہے مگر اس کا راستہ خاردار ہے، جسے طے کرنا نفس پرگِراں ہے۔ نَماز ، روزہ ، حج، زکوٰۃ ، جہاد ،شہادت جنّت کا راستہ ہی تو ہیں ، طاعات( یعنی عبادات ) پرہمیشگی، شَہوات سے علیٰحدگی واقِعی(نفس کیلئے) مَشَقَّت کی چیزیں ہیں۔خیال رہے کہ یہاں'' شَہوات'' سے مُراد حرام خواہشیں ہیں، جیسے شراب، زِنا،سُرُود ( یعنی گانے باجے) حرام کھیل تماشے ، اس میں جائز شہوات داخِل نہیں، اور ''مکارِہ'' (یعنی تکالیف ) سے مراد عبادات کی طاعات کی مشقَّتیں ہیں، لہٰذا اس میں خود کُشی و مال برباد کرنا داخِل نہیں۔